اسلام اور بینک کی ملازمت

سوال:

ا۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے کیا بینک کی ملازمت حلال ہے اور کیا ایک مسلمان بینکر ہو سکتا ہے ؟

ب۔ میں نے زرعی معاشیات (Agriculture Economics)میں ماسٹرز کیا ہے اور میں بآسانی بینکنگ سیکٹر میں Job حاصل کر سکتا ہوں ، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس سلسلے میں کچھ ہچکچاہٹ سی ہے۔ ویسے بھی بہت سارے لوگ اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں ۔لیکن میرا خیال ہے کہ جب بینک کا ادارہ حکومتی نگرانی اور تعاون سے چلایا جاتا ہے اور اِس سے سماجی فلاح میں بھی اضافہ ہوتا ہے تو پھر اسے غیر اسلامی کیوں سمجھا جائے ؟ بینکنگ کا جدید تصور رسول اللہ کے زمانے کے تصور سے بہت مختلف ہے کیونکہ اُس وقت یہ محض غریبوں کے استحصال کا ایک نظام تھا۔ اِس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ براہِ مہربانی میری رہنمائی کیجیے۔


جواب:

بینک ایک ایسا مالیاتی ادارہ ہے جس کا بنیادی کام سودی قرضے فراہم کرنا ہے ۔اس مقصد کے لیے بینک بہت سے عام لوگوں سے ان کی بچت (Savings)ایک متعین شرحِ سود پر لیتا ہے اور قرضے کے ضرورت مند کچھ لوگوں کو زیادہ شرحِ سود پر آگے دے دیتا ہے ۔اس کے علاوہ بینک جو کچھ کرتا ہے وہ اس کی اضافی خدمات اور سہولیات ہیں۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ بینک ایک سودی ادارہ ہے تو پھر دیکھا یہ جائے گا کہ سود کا اسلام میں کیا حکم ہے۔ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ سود کھانا اسلام میں قطعی حرام اور ناجائز ہے ۔اس حوالے سے قرآن و حدیث کے کچھ ارشادات درج ذیل ہیں:

''جولوگ سود کھاتے ہیں ، وہ قیامت کے دن اٹھیں گے توبالکل اِس شخص کی طرح اٹھیں گے جس کوشیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیا ہو۔ یہ اس وجہ سے ہو گاکہ انھوں نے کہا:بیع بھی توآخرسودہی کی طرح ہے اورتعجب ہے کہ اللہ نے بیع کوحلال اورسودکوحرام ٹھرایا ہے۔ چنانچہ جس کواس کے پروردگارکی یہ تنبیہ پہنچی اوروہ بازآ گیاتوجوکچھ وہ لے چکا، سولے چکا اوراس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ، اورجو اب اس کا اعادہ کریں گے تو وہی اہل دوزخ ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔'' (بقرہ2: 257)
''ایمان والو، اگرتم سچے مومن ہو تواللہ سے ڈرواورجوکچھ سود باقی رہ گیا ہے ، اسے چھوڑ دو۔ پھر اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہو جاؤ۔ اور اگر تم توبہ کر لو تواصل رقم کا تمھیں حق ہے ، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پرظلم کیا جائے گا۔'' (بقرہ2: 278۔279)
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے اوراس کی دستاویز لکھنے والے اور اس دستاویز کے دونوں گوا ہوں پر لعنت کی اور فرمایا: یہ سب برابرہیں ۔'' (مسلم ، رقم4093)

ان ارشادات کی روشنی میں آپ فیصلہ کر لیجیے کہ کسی سودی ادارے میں کام کی گنجایش ہے یا نہیں ۔ جو کچھ آپ نے بینکنگ سسٹم کی تائید میں فرمایا ہے اس سے سودی نظام کاجواز پیدا نہیں ہوتا۔ حکومت کی نگرانی میں کسی ادارے کے چلنے اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے سے کوئی ناجائز جائز نہیں ہوجاتا۔ دنیا بھر میں جوے خانے حکومتی نگرانی میں چلتے اور اپنی آمدنی کا بڑ ا حصہ فلاحی کاموں میں خرچ کرتے ہیں ۔ مگر ان کے جواز کا فتویٰ کوئی نہیں دیتا۔ٹھیک یہی معاملہ بینک کا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بینک کا ادارہ موجود ہی نہیں تھا کہ اس کا موازنہ آج سے کیا جائے ۔تجارتی سود اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے اور دین نے اسی کی حرمت کا حکم دیا ہے ۔بینک اگر تجارتی سود کے معاملات کرتا ہے تو اس کے کاروبار کو کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے ؟

تاہم سود کی اس شناعت کے باوجود دور حاضر میں بینک ایک ناگزیر برائی کے طور پر موجود ہے۔ اہل علم مستقل اس کوشش میں ہیں کہ کوئی ایسا حل پیش کریں جس سے موجودہ معاشی نظام میں بینک کی اہمیت کی بنا پر ، اسے ختم کیے بغیر ، اس میں سے سود کا عنصر ختم کر دیں۔ اس سلسلے میں استاذ گرامی نے بینک کے ادارے کے لیے کچھ تجاویز پیش کی ہیں جنھیں اختیار کرنے سے بینکنگ کے ادارے سے سود کی لعنت کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ یہ تجاویز درج ذیل ہیں:

''اولاً ، جس کاروبار کے لیے قرض دیا گیا ہے ، اُس میں نقصان ہو جائے یا کاروبار کسی وجہ سے بند کرنا پڑے تو منفعت کا مطالبہ بھی اُسی دن سے بند کر دیا جائے ۔ بنک اِس کے بعد صرف اصل زر کا تقاضا کرے۔
ثانیاً ، اشیا قسطوں پر فروخت کی جائیں تو جب تک قسطیں پوری نہ ہوں ، بنک اُس شے کی ملکیت میں شریک رہے ، ملکیت کے تقاضے پورے کرے اور اُن پر کرایہ لے ۔
ثالثاً ، قرض اگر غیر کاروباری ضرورتوں کے لیے دیا گیا ہے تو افراط زر سے جو کمی واقع ہوتی ہے ، اُس کی تلافی کے سوا کسی زائد رقم کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔'' ، (اشراق دسمبر 2008 ، ص3)

مگر جب تک یہ تبدیلیاں نہیں آتیں معاشی بحران کے اس دور میں ہم بینک کی ملازمت اختیار کرنے والوں کو یہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو اگر متبادل جاب مل رہی ہے تو بہتر ہے کہ آپ بینک کی جاب چھوڑ دیں۔ نہیں مل رہی تو اپنے حالات کی روشنی میں معاش کا کوئی بہتر لائحہ عمل بنانے کی کوشش کریں اوراللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کرتے رہیں۔ تاہم جب تک متبادل نہ ملے ملازمت چھوڑ کر اپنے خاندان کو معاشی مسائل میں مبتلا مت کریں۔

یہاں دو مزید باتوں کا تذکرہ کرنا بھی غیر متعلق نہ ہوگا۔ ایک یہ کہ بینک کی ملازمت بھی دو طرح کی ہے۔ ایک جس میں براہِ راست سودی معاملات میں تعاون کی وہ شکل ہوتی ہے کہ جسے حدیث میں 'موکل' یعنی سودی ایجنٹ کہا گیا ہے۔ جو لوگ ایسی ملازمتوں سے منسلک ہیں ، انھیں چاہیے کہ وہ جلد از جلد معاش کا کوئی متبادل تلاش کریں ۔ وہ اگر اپنے حالات کی بنا پر عزیمت کی یہ راہ اختیار نہ کر سکیں تو پروردگار کے حضور رجوع کر کے اپنا عذر اس کی کریم بارگاہ میں پیش کرتے رہیں ۔ ساتھ ہی اپنے مال میں سے کثرت کے ساتھ انفاق کریں ۔ امید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کی بنا پر در گزر کا معاملہ فرمائے گا۔ دوسری ملازمت پبلک سروسز کی نوعیت کی ہوتی ہے۔ ان کو کرنے میں اصلاً کوئی حرج نہیں ہے ۔جو لوگ ایسی ملازمتوں سے منسلک ہیں ، وہ اگر معاش کا کوئی دوسرا بہتر سلسلہ تلاش کر سکیں تو اچھی بات ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے حالات کی بنا پر ایسا نہیں کرتے تو ان شاء اللہ پروردگار کے حضور ان پر کوئی آنچ نہ آئے گی۔

دوسرے یہ کہ سود سے متعلق ایک اہم مسئلہ اُن لوگوں کا بھی ہے جو سود لیتے نہیں ، مگر ذاتی اور کاروباری ضرورتوں کے لیے قرض لیتے اور اُس پر سود دیتے ہیں ۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بھی اُسی طرح حرام ہے ، جس طرح سود لینا حرام ہے ۔ اکثر علما بھی یہی کہتے ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس کی کوئی بنیاد قرآن و حدیث میں نہیں ہے ۔ قرآن نے کسی جگہ ایک لفظ بھی سود دینے والوں کی مذمت میں نہیں کہا ، بلکہ اُنھیں مظلوم قرار دیا اور تنگ دست ہوں تو اصل زر کی واپسی کے لیے مہلت دینے کی تلقین فرمائی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ حدیث میں سود کھلانے والوں کو بھی یکساں مجرم ٹھیرایا گیا ہے ، لیکن اِس کا مطلب سمجھنے میں لوگوں سے غلطی ہوئی ہے ۔ اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جو سود کا کاروبار کرنے والوں کے ایجنٹ کی حیثیت سے اُن کے لیے گاہک ڈھونڈتے اور اِس طرح اُنھیں سود کھلا کر ایک بڑ ے گناہ میں تعاون کے مجرم بنتے ہیں ، سود پر قرض لینے والوں سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author