اسلام اور تفریح

سوال:

اسلام میں تفریح کا کیا تصور ہے۔ اس سے متعلق ایک چیز خوشی منانا بھی ہے۔ خوشی کیا چیز ہے۔ ہم اس کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں یا اسے کیسے منا سکتے ہیں۔ کیا خو شی منانے پر کچھ قدغنیں عائد کی گئی ہیں۔

عید کے موقع پر دورکعت نماز اور خیرات کی تعلیم کیا خوشی منانے کی دوسری صورتوں کی نفی کرتی ہے۔


جواب:

اسلام اصل میں باطن اور ظاہر کی پاکیزگی کی تعلیمات کا مجموعہ ہے۔ لہذا پہننے، کھانے، پینے، رہنے بسنے، رسوم ورواج، تفریحات غرض ہر ہر دائرے اور موقع کے لیے اسلام فحاشی ، منکرات اور محرمات سے گریز کا تقاضا کرتا ہے۔ پھر خدا کے ایک بندے کی حیثیت کو بھی اس نے نمایاں کیا ہے۔ چنانچہ دونوں عیدوں پر ایک اضافی نماز کو رائج کیا گیا ہے اور اسے خوشی کے اس دن کا نقطہ آغاز بنا دیا ہے۔ عید الفطر میں صدقہ فطر عائد کیا تاکہ غربا کے لیے عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کی صورت پیدا ہو جائے۔ عید الاضحی میں گوشت کی تقسیم سے یہی مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ ایک پہلو سے یہ دونوں عبادتیں خدا سے جوڑتی ہیں اور دوسرے پہلو سے انسان سے۔ فحاشی، منکرات اور محرمات سے گریز انسان کے اخلاقی وجود کو مفاسد سے محفوظ رکھتا ہے اور عبادت اور خیرات سے اسے قوت اور جلا حاصل ہوتی ہے۔

اسلام نے تفریحات پر پابندی عائد نہیں کی انھیں صحیح رخ پر استوار کر دیا ہے۔ جائز حدود میں رہ کر خوشی منائی جا سکتی ہے۔ لیکن اسے ایسی صورت نہیں دینی چاہیے جو انسان کے اخلاقی وجود کے لیے غلاظت اور زوال کا ذریعہ ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author