اسلامی نظام اور مسائل کا حل

سوال:

کیا اسلامی نظام کا نفاذ تمام مسائل کا حل ہے؟


جواب:

اسلامی نظام کہیں نظام کے طور پربنا کے رکھا ہوا نہیں ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک شریعت دی ہے، اس میں کچھ چیزوں کے بارے میں اپنا قانون دے دیا ہے۔ اس کی بنیاد پر ہم نظام بنائیں گے۔ اس میں بھی علمی کام کی ضرورت ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہےے کہ موجودہ دنیا میں نظام کیا چیز ہے؟وہ کس سطح پر پہنچ گیا ہے؟ جو جمہوری نظام دنیا میںمتعارف ہوا ہے، اس کے تحت جو ادارے بنے ہیں، عدلیہ جس طریقے سے قاعدہ و قانون کی پابند ہوئی ہے، جس طریقے سے اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کا ایک پورا کا پورا ضابطہ وجود میں آیا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ نظام دنیا نے بہت Develope کرکے آخری انتہا تک پہنچا دیے ہیں۔ ان کے اندر انسانوں کے بے شمار تجربات شامل ہو گئے ہیں۔ ہم بھی جب اسلام کی بنیاد پر کسی نظام کی بات کرتے ہیں تو وہاں بھی ہم کو علمی کام کرنا ہو گا۔ اس لیے علم میںاگر ہم پیچھے ہیں توکچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اللہ کی شریعت سے جو برکات ہمیں مل سکتی ہیں، وہ بھی اس وقت ملیں گی جب بحیثیت مجموعی شریعتہمارے پورے کے پورے معاشرے کے اندر ایک ارتقائی عمل کے ذریعے سے ظہور پذیر ہو گی۔ ہمارے پاس کوئی بنا ہوا نظام کہیں موجود نہیں ہے۔ ہمارے پاس صرف چند چیزوں کے بارے میں اللہ کی ہدایت موجود ہے۔ اور یہ بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی شریعت کا حامل بنایا ہے اور ہمیں اس کا علم بردار بن کے رہنا چاہیے۔ لیکن پہلے ہماری زندگی کے ساتھ اس کا تعلق علمی سطح پر قائم ہو گا، پھر وہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک ثقافتی اور تہذیبی حقیقت بنے گی۔ اس کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ ہمارے اندر نفوذ کر گئی ہے۔ اصل میں دین کانفاذ نہیں ہوتا، اس کا نفوذ ہوتا ہے۔ وہ ہماری روح میں اترتا ہے، ہمارے دل و دماغ کا حصہ بنتا ہے، ہماری تہذیب اور معاشرت کا حصہ بنتا ہے۔ وہ محض قانون نہیں ہے۔ اس میں تو درحقیقت دل و دماغ بدلتے ہیں، روحیں بدلتی ہیں۔ ایک نئی انسانیت وجود میں آتی ہےجو اعلیٰ اقدار کی حامل ہے۔ اعلیٰ اقدار جب معاشرتی نظم کا حصہ بن جاتی ہیں، تب کہیں جا کر ان کی برکات سامنے آتی ہیں۔ اگر لوگ جھوٹ بولتے ہیں، بددیانتی کرتے ہیں، کم تولتے ہیں، لوگوں کا مال کھاتے ہیں، ہر موقع پر دوسروں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، جان و مال اور آبرو کی حفاظت کسی کی محفوظ نہیں تو کون سا نظام ہے جو آپ کو ان چیزوں سے روکے گا۔ اس کے لیے قوم کی تعمیر کا کام کرنا پڑے گا۔ قوم کی تعمیر جس طرح اخلاقی لحاظ سے کرنا ضروری ہے، اسی طرح علمی لحاظ سے بھی کرنا ضروری ہے۔ ہماری توجہات کا مرکز یہ چیزیں ہونی چاہییں۔ ہمیں اپنے جھگڑے اور سیاسی مقاصد ایک طرف رکھ کے، اس چیز کے اوپر اپنی قوت، اپنا سرمایہ ، اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کرنی چاہییں۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author