استخارے کا جواب اور دعاے استخارہ کی حقیقت

سوال:

استخارہ کرنے کی صورت میں جو جواب آئے، اس کی مخالفت کرنا درست ہے یا نہیں؟


جواب:

ایسا نہیں کہ دعاے استخارہ سے ہمارا خدا کے ساتھ رابطہ ہو جاتا ہے اور ہم اپنے مسئلے میں خدا کی بات یقینی صورت میں معلوم کر لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تا تو پھر ظاہر ہے کہ اس کی مخالفت صریحاً غلطی ہوتی۔
دعاے استخارہ دراصل، خدا سے خیر طلب کرنے کی دعا ہے۔ اس دعا کا ترجمہ درج ذیل ہے:

'' اے اللہ، میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے قدرت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا اور تو علام الغیوب ہے۔ اے اللہ، اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگانی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کردے اور آسان بنا دے ، پھر اس میں برکت پیدا کر دے اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگانی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے۔ (پروردگار)، میرے لیے خیر کو مقدر فرما، وہ جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس سے راضی کر دے۔''

اس میں ہم اللہ سے اس کے علم کے مطابق جو چیز بہتر ہو ،وہ طلب کرتے ہیں۔ جب یہ دعا قبول ہوتی ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ اشارے کے ذریعے سے خدا ہمیں اپنا کوئی فیصلہ سنا دیتا ہے، بلکہ دعا کی قبولیت کی صورت میں وہ اس چیز کو جو ہمارے لیے بہتر ہو ،اسے ہمارے مقدر میں لکھ دیتا ہے، اس کے بارے میں ہمارا تردد ختم کر دیتا ہے، وہی ہماری پسند اور ہماری راے بن جاتی ہے، لہٰذا جو بات خواب وغیرہ میں ہم دیکھیں، اگر اس پر ہمارا دل نہیں جم رہا اور وہ ہمیں صحیح محسوس نہیں ہو رہی تو پھر اسے نہیں ماننا چاہیے۔ البتہ، اگر وہ ہمارے علم و عقل کے مطابق ہمیں بہتر محسوس ہو تب اس پر عمل کر لینا چاہیے، کیونکہ دعا کی قبولیت کی صورت میں خدا کے نزدیک جو بات بہتر ہے، اس نے مقدر ہو جانا ہے۔


خدا سے دعا مانگنے کے لیے دل کا اخلاص ضروری ہے۔ انسان کا پہلے سے بہت نیک ہونا لازم نہیں ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author