استمنا باليد اور رضاعت

سوال:

ميرا پہلا سوال يہ ہے كہ جوانی ميں انسان غلط كام كر جاتا ہے اور ميں نے بھی كئے ہيں۔ میں نے لڑکیوں سے دوستی وغيرہ كی ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی نے ہدایت دی۔ اب میں اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور ان سب چيزوں سے توبہ کر لی ہے۔ اس وقت ميں استمنا باليد كے بارے ميں جاننا چاہتا ہوں۔ کیا یہ گناہ کبیرہ ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں زنا سے بچنے کے لیے يہ كام كيا جا سكتا ہے۔ ايسا كر كے لوگ گناہ سے بچ جاتے ہیں۔

ميرا دوسسرا سوال يہ ہے كہ میرا دوست چھوٹا سا تھا اور ہسپتال میں تھا۔ جب وہ پیدا ہوا تو کچھ وجوہات کی بنا پر اس کی ماں کو اس سے دور ہونا پڑا۔ اس کی زندگی کو خطرہ تھا۔تب اس کی بڑی پھوپھی نے اسے اپنا دودھ پلا دیا۔ انھوں نے اپنے شوہر سے اجازت بھی نہیں لی تھی اور ایسا صرف ایک بار ہی ہوا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اپنی پھوپھو کی اس بیٹی سے وہ بہت پیار کرتا ہے اور بچپن سے کرتا آ رہا ہے۔ کیا ان کی شادی جائز ہے؟


جواب:

آپ نے اپنے خط ميں دو سوالات پوچھے ہيں۔ايک استمنا باليد اور دوسرا رضاعت سے متعلق۔ ان دونوں سوالات کے تفصيلی جوابات حسب ترتيب درج ذيل ہيں:

١) دين اسلام ميں کيا چيز حرام اور باعث گناہ ہے، اس کے بيان کے دو طريقے اختيار کيے گئے ہيں۔ ايک يہ کہ گناہ کو باقاعدہ بيان کر ديا جائے۔ شراب نوشی، قتل ناحق، زنا، غيبت، بہتان اور بہت سے ديگر گناہوں کو نام لے کر اسی اصول پر بالکل واضح کيا گيا ہے۔ تاہم يہ فہرست چونکہ بہت طويل ہوسکتی ہے، اس ليے اللہ تعالیٰ نے ايک دوسرا طريقہ بھی اختيا ر کيا ہے جس کی مدد سے بالواسطہ طور پر کسی قول يا فعل کے متعلق يہ جانا جاسکتا ہے کہ وہ گناہ ہے يا نہيں۔ اس طريقے ميں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن پاک ميں گناہوں کی کچھ بنيا دی کيٹيگری گنوادی ہيں ۔جو اعمال ان کے تحت ميں آتے ہيں وہ حرام اورسب گناہ قرار پائيں گے۔ ان کيٹيگری کا بيان قرآن پاک ميں اس طرح آيا ہے:

اے نبی کہدو کہ میرے رب نے جو چيزيں حرام کی ہيں وہ تو يہ ہيں:بے حيا ئی کے کام،خواہ کھلے ہوں يا چھپے، اور حق تلفی،اور ناحق زيادتی، اور اس بات کو حرام ٹھہرايا ہے کہ تم کسی چيز کو اللہ کا شريک بناؤ جس کی اس نے کوئی دليل نہيں اتاری، اور يہ کہ تم اللہ کے نام پر کوئی ايسی بات کہوجس کا تمھيں علم نہ ہو۔(الاعراف7 :33)

يہ کل پانچ کيٹيگری ہوئيں يعنی:

١)فواحش (بے حيائی )

٢)اثم (حق تلفی )

٣)ناحق زيادتی و سرکشی

4)شرک اور اس سے متعلق ہر شے

5) اللہ کی سند کے بغير کسی چيز کو دين کے طور پر بيا ن کرنا (بدعت)

اس اصولی بات کے بعد يہ سمجھ ليجيے کہ قرآن کريم استمنا باليد (Masterbation)کے ذکر سے بالکل خالی ہے۔بعض اہل علم عام طور پر سورہ مومنون 23آيت 5-7کے تحت اس کی حرمت کی رائے ديتے ہيں۔ مگر آيت کا بغور مطالعہ يہ واضح کرتا ہے کہ وہاں دراصل بيويوں اور لونڈيوں کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق کی حرمت بيان کی جا رہی ہے جبکہ استمنا باليد (Masterbation) اپنی نوعيت کے اعتبار سے دو افراد کے درميان قائم ہونے والا جنسی تعلق نہيں بلکہ ايک فرد کاوہ عمل ہے جس سے وہ جنسی لذت حاصل کرتا ہے۔ جسے انگريزی ميں (self induced sexual pleasure) سے تعبير کر سکتے ہيں۔ قرآن کريم کے علاوہ ذخيرہ احاديث بھی اس کے ذکر سے خالی ہے۔ ان آيات کے ضمن ميں ابن کثير نے ايک روايت نقل کی ہے، مگر يہ بھی واضح کرديا کہ يہ روايت درست نہيں ہے۔

اس پس منظر ميں اب اس فعل کی دينی حيثيت جاننے کے ليے کا دوسرا طريقہ ہی ہماری رہنمائی کرسکتا ہے۔ يعنی قرآن کريم کے عمومی بيان کی روشنی ميں اس فعل کو پرکھنا۔ اوپر سورہ اعراف کی جو آيت ہم نے نقل کی ہے اس ميں ايک کيٹيگری ايسی ہے جو استمنا باليد (Masterbation) کے معاملے ميں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ يعنی فواحش (بے حيا ئی کے کام ) خواہ کھلے ہوں يا چھپے، وہ بھی حرام ہيں۔

اس بارے ميں ايک سے زيادہ آرا ہوسکتی ہيں کہ ماسٹر بيشن فحش عمل ہے يا نہيں۔ ہمارے نزديک اس معاملے ميں حضرت عبداللہ ابن عباس کا وہ نقطہ نظر ہی ٹھيک ہے جو ابن حزم نے اپنی کتاب المحلی ميں نقل کيا ہے يعنی يہ مساس عضو کے ذريعے سے انزال کی لذت حاصل کرنے کا ايک عمل ہے (المحلی بالآثار لابن حزم392-393/11)، اس ليے براہ راست تو اسے گناہ نہيں کہا جا سکتا۔ تاہم يہ عمل عموماً فحش مناظر اور خيالات کے زير اثر ہی ظہور پذير ہوتا ہے۔ سورہ اعراف کی آيت کے مطابق يہ دونوں چيزيں گناہ ہيں۔ چنانچہ اس پس منظر ميں اس کے جواز کی رائے نہيں دی جاسکتی۔ تاہم دوسری طرف يہ ايک حقيقت ہے کہ آج کل کے حالات ميں بلوغت کے ايک طويل عرصہ بعد بھی نوجوانوں کی شادياں ممکن نہيں ہوتيں۔ ايسے ميں پاکدامنی کا عزم رکھنے والے نوجوان اگر حالت اضطرار ميں اس کا ارتکاب کر جائيں ہمارے نزديک يہ باعث گناہ نہيں ہو گا۔

ہمارے نزديک اس معاملے ميں والدين اور سرپرستوں کی يہ ذمہ داری ہے کہ وہ جلد از جلد نوجوانوں کی شادیوں کا اہتمام کريں جو انسان کے تمام تقاضوں کا فطری جواب ہے۔ اس کے علاوہ والدين کو اس معاملے ميں بچوں کی تربيت کرنی چاہيے اور فواحش سے انہيں دور رہنے کی تعليم دينی چاہيے۔ بچوں کو بيکار نہ بيٹھنے ديں اور نہ ہر وقت ٹی وی کے سامنے رہنے ديں۔ اس کے بجائے اچھی عادتيں، اچھا مطالعہ اور اچھی صحبت کی تلقين کريں جو بہت سے مسائل پيدا ہی نہيں ہونے ديتی۔

٢)رضاعت کے معاملے ميں استاذ گرامی جناب جاويد احمد غامدی صاحب نے اپنا نقطہ نظر اپنی کتاب ميزان ميں اس طرح بيا ن کيا ہے:

یہی تقدس رضاعی رشتوں میں بھی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

رضاعت کے تعلق کو لوگ ہمارے ہاں اُس گہرے معنی میں نہیں لیتے، جس معنی میں اُس کو لوگ عرب میں لیتے تھے۔ اِس کا سبب محض رواج کا فرق ہے۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ اِس کو مادرانہ رشتے سے بڑی گہری مناسبت ہے۔ جو بچہ جس ماں کی آغوش میں، اُس کی چھاتیوں کے دودھ سے پلتا ہے، وہ اُس کی پوری نہیں تو آدھی ماں تو ضرور بن جاتی ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جس کا دودھ اُس کے رگ و پے میں جاری و ساری ہے، اُس سے اُس کے جذبات و احساسات متاثر نہ ہوں۔ اگر نہ متاثر ہوں تو یہ فطرت کا بناؤ نہیں، بلکہ بگاڑ ہے اور اسلام جو دین فطرت ہے، اُس کے لیے ضروری تھا کہ اِس بگاڑ کو درست کرے۔ (تدبر قرآن ٢/٥٧٢)

یہ تعلق کس طرح دودھ پلانے سے قائم ہوتا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

یہ تعلق مجرد کسی اتفاقی واقعے سے قائم نہیں ہو جاتا۔ قرآن نے یہاں جن لفظوں میں اِسے بیان کیا ہے، اِس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ اتفاقی طور پر نہیں، بلکہ اہتمام کے ساتھ، ایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آیا ہو، تب اِس کا اعتبار ہے۔ اول تو فرمایا ہے: ''تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے۔'' پھر اِس کے لیے رضاعت کا لفظ استعمال کیا ہے: 'وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ'۔ عربی زبان کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ 'ارضاع' باب افعال سے ہے جس میں فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اِسی طرح رضاعت کا لفظ بھی اِس بات سے ابا کرتا ہے کہ اگر کوئی عورت کسی روتے بچے کو بہلانے کے لیے اپنی چھاتی اُس کے منہ میں لگا دے تو یہ رضاعت کہلائے۔ (تدبر قرآن ٢/٥٧٢)

قرآن کا یہ منشا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر واضح فرمایا ہے:

سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا: ایک دو گھونٹ اتفاقاً پی لیے جائیں تو اِس سے کوئی رشتہ حرام نہیں ہوجاتا۔ (مسلم، رقم:3590)

سیدہ ہی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ آپ کو یہ ناگوار ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے پر غصے کے آثار ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، یہ میرے رضاعی بھائی ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے اِن بھائیوں کو دیکھ لیا کرو، اِس لیے کہ رضاعت کا تعلق تو صرف اُس دودھ سے قائم ہوتا ہے جو بچے کو دودھ کی ضرورت کے زمانے میں پلایا جائے۔ (مسلم، رقم:3606)

یہاں کسی شخص کو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے منہ بولے بیٹے سالم کی بڑی عمر میں رضاعت سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ جو بات اِس واقعے سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ منہ بولے بیٹوں کے بارے میں قرآن کا حکم آ جانے کے بعد جو صورت حال ایک گھرانے کے لیے پیدا ہو گئی، اُس سے نکلنے کا ایک طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں بتایا ہے۔ اِسے کسی مستقل حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ واقعہ یہ ہے:

ابو حذیفہ کی بیوی اور سہیل بن عمرو قرشی عامری کی بیٹی سہلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یارسول اللہ، ہم تو سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے۔ وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا اور مجھے گھر کے کپڑوں میں دیکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جو حکم اِن لڑکوں کے متعلق نازل کیا ہے، اُس سے آپ واقف ہیں۔ اب بتائیے، اِس معاملے میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِسے اپنا دودھ پلادو۔ (ابوداؤد ، رقم١٦٠٢)

لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ رضاعت کے لیے دودھ کی عمر اور دودھ پلانے کا اہتمام، دونوں ضروری ہیں اور اِس سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی تعلق سے حرام ہوتے ہیں۔ (میزان:412-414)

اس تفصيل سے يہ بات واضح ہے کہ رضاعت سے رشتوں کی حرمت کے ليے دودھ کی عمر اور دودھ پلانے کا اہتمام ضروری ہے۔ آپ کے دوست کے معاملے ميں عمر تو موجود ہے، البتہ صرف ايک دفعہ دودھ پلانے کے عمل سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اہتمام شامل نہيں تھا، بلکہ ماں کی غير موجودگی کی بنا پر روتے ہوئے بچے کو فوری چپ کرانے کے ليے يہ کام کيا گيا۔ اس ليے ہمارے نزديک آپ کے دوست کا اپنی کزن سے نکاح ممنوع نہيں ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author