استمنا بالید

سوال:

بعض لڑکے جنسی تسکین کے لیے ہاتھ سے کام لیتے ہیں۔ دین اس طریقے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اگر رمضان میں روزے کی حالت میں یہ کام کیا جائے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟


جواب:

یہ عمل طبی اور اخلاقی، دونوں اعتبار سے غلط ہے۔ طبی اعتبار سے یہ دو پہلوؤں سے ضرر رساں ہے: ایک تو یہ جسم کے لیے نقصان دہ ہے۔ دوسرے یہ نفسیاتی طور پر جنسی تسکین کے عمل کو غیر حقیقی بنا دیتا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے یہ اس لیے غلط ہے کہ ذہن میں نا مناسب خیالات لائے بغیر یہ عمل ممکن نہیں ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کی شناعت وہ نہیں جو زنا کی ہے، اس لیے اسے کم تر برائی ہی قرار دیا جائے گا۔ امید ہے ، اللہ تعالیٰ زنا سے بچنے کے لیے اسے اختیار کرنے والے کا عذر قبول فرمائیں گے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ بعض علما اسے گناہ قرار دیتے ہیں اور بعض اسے گناہ قرار نہیں دیتے، لیکن اسے ناپسندیدہ قرار دینے میں دورائیں نہیں ہیں۔

رمضان میں روزے کی حالت میں اس عمل سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔اس کے کفارے کے حوالے سے استاد محترم نے لکھا ہے:

''جان بوجھ کر روزہ توڑ لینا ایک بڑا گناہ ہے۔ اِس طرح کی کوئی چیز آدمی سے سرزد ہو جائے تو بہتر ہے کہ وہ اِس کا کفارہ ادا کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے لیے ایک شخص کو وہی کفارہ بتایا جو قرآن مجید نے ظہار کے لیے مقرر کیا ہے۔ تا ہم روایت سے واضح ہے کہ جب اُس نے معذوری ظاہر کی تو آپ نے اِس پر اصرار نہیں فرمایا۔'' (میزان370)

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author