جادو اور روحانی علم

سوال:

میں نے نیٹ پر آپ کی البیان کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں سلیمان علیہ السلام کے وقت میں جادو کے بارے میں آپ نے لکھا ہے کہ یہ ایک دوسرا علم ہے یہ بات مجھے پسند آئی مگر آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ جادو اور روحانی علم دونوں اللہ کے اذن سے کام کرتے ہیں اس پر میرے ذہن میں سوال آتا ہے کہ وماہم بضارین بہ میں بھما ہونا چاہیے تھا۔ جادو کے ساتھ اذن کا لفظ موذوں نہیں لگتا۔


جواب:

اصل میں اس دنیا میں جتنے بھی کام ہیں وہ اللہ کے حکم یا اذن ہی سے ہو رہے ہیں۔ صرف اس طرح کے فنون ہی نہیں مادی فنون کا معاملہ بھی یہی ہے۔ بندوق سے نکلی ہوئی گولی ہو یا کسی کا کیا ہوا تعویز دونوں اسی صورت میں کار گر ہوتے ہیں جب اللہ کا اذن ہو۔ اس لحاظ سے جادو اور غیر جادو میں فرق ہے اور نہ مادی اور غیر مادی میں فرق ہے۔

آپ غالبا یہ خیال رکھتے ہیں کہ ہاروت و ماروت پر اتارا ہوا علم چونکہ خدائی ہے اس لیے اس کے اللہ کے اذن کا تصور ٹھیک ہے اور جادو چونکہ شیطانی ہے اس لیے اس کے ساتھ اللہ کے نام کا حوالہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہاں اللہ کا نام اس پہلو سے نہیں لیا گیا کہ اس میں اللہ کی رضا ہے بلکہ اس پہلو سے لیا گیا ہے کہ یہ اگر کہیں اپنے اثرات دکھاتا ہے تو اللہ کے اذن سے دکھاتا ہے اللہ کے اذن کے بغیر نہیں دکھا سکتا۔

اصل میں مادی قوانین کی طرح الفاظ کی تاثیر کا فن ہو یا شیاطین کی کارفرمائیاں یہ ساری چیزیں اور امکانات اللہ تعالی کے منصوبے کے تحت وجود پذیر ہوئے اور ان پر اللہ تعالی کی نگرانی مسلسل قائم ہے اور وہی کچھ ظاہر ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتاہے۔ اس معنی میں نہیں کہ اللہ اس سے خوش ہے۔ ہر گز نہیں اللہ کسی جرم پر خوش نہیں ہوتا۔ البتہ وہ قانون آزمایش کے پیش نظر کچھ جرائم کو واقع ہونے دیتا ہے یہاں اذن اللہ کا لفظ اسی محل میں آیا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author