جادو اور اس کا روحانی علاج

سوال:

کیا جادو یا کالا علم کوئی حقیقت رکھتا ہے ؟ اور کیا اس کا روحانی علاج کرانا درست ہے؟اور کیا ہم عملیات پر یقین رکھ سکتے ہیں؟


جواب:

ارشاد باری ہے:

'وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ' (فلق113: 4)

''(یعنی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔''

اس آیت سے یہ پتا چلتا ہے کہ جادو کرنے والوں کا ایک شر ہے جس سے بچنے کے لیے ہمیں یہ کلمہ سکھایا گیا ہے۔ اور ارشاد باری ہے:

'' اور یہ (یہودی) ان چیزوں کے پیچھے پڑ گئے جو سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے، ... یہی(شیاطین) لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔'' (بقرہ2: 102)

چنانچہ جادو یا کالا علم ایک حقیقت ہے، اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔


عام مشاہدے میں جو چیز آئی ہے ،وہ یہ ہے کہ جس شخص پر کالا جادو کر دیا جائے، وہ شدید توہمات میں گھر جاتا ہے، بعض صورتوں میں وہ سخت بیمار ہو جاتاہے اور اسے عام علاج معالجے سے بھی کوئی شفا نہیں ہوتی۔


جادو وغیرہ کے لیے روحانی علاج کرانا درست ہے۔ البتہ، تعویذ گنڈے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکروہ جانا ہے۔ ابو داؤد کی''کتاب الخاتم'' میں ایک مفصل حدیث بیان ہوئی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس چیزوں کو مکروہ جانتے تھے ،ان باتوں میں سے ایک تعویذ باندھنا بھی ہے۔


خود دین نے اس کے توڑ کے لیے جو روحانی علاج بتایا ہے، وہ معوذتین کا پڑھنا ہے۔یہ دونوں سورتیں دراصل، جادو اور بعض دوسرے شرور سے خدا کی پناہ حاصل کرنے کی دعا ہیں۔ یہ اگر پورے یقین کے ساتھ پڑھی جائیں تو ان سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے۔


اس کے علاوہ اگر آپ کسی روحانی عامل سے علاج کرانا چاہیں تو کرا سکتے ہیں، بس یہ دیکھ لیں کہ وہ کوئی شرکیہ عمل اختیار کرنے والا نہ ہو اور دھوکاباز نہ ہو۔


عملیات پر یقین رکھنے کے الفاظ درست نہیں ہیں، کیونکہ اس میں وہ سب کچھ بھی آ جاتا ہے جو انسانوں کی ایجاد ہے۔
البتہ، اشیا اور کلمات کے خواص اور ان کی تاثیرات کا علم ایک حقیقت ہے۔ قرآن مجید میں ہاروت و ماروت کے حوالے سے جس علم کا ذکر کیا گیا ہے ، عام طور پر اسے جادو سمجھا گیا ہے، لیکن مولانا امین احسن مرحوم نے واضح کیا ہے کہ وہ اشیا اور کلمات کے خواص اور ان کی تاثیرات کا علم تھا۔


البتہ، ہر مسلمان کے لیے یہ یقین رکھنا ضروری ہے کہ جادو ہو یا روحانی علم، ان میں تاثیر اللہ ہی کے اذن سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا کے علاوہ کوئی چیز بھی بذات خود کوئی تاثیر نہیں رکھتی۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author