جانوروں کی تخلیق کا مقصد

سوال:

خشکی اور پانی کے کچھ جانور حلال نہیں ہیں، ان کی تخلیق کا کیا مقصد ہے؟


جواب:

اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا صرف کھانے کے لیے نہیں بنائی، بلکہ اپنی تخلیقی فعالیت کے ظہور کے لیے بنائی ہے۔ اس میں ہماری جمالیات کی تسکین کا سامان پیدا کیا ہے۔ اس میں خدا کی تخلیقی فعالیت کا ظہور ہوا ہے۔ اس کے ذریعے سے اللہ کی صفات ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اس دنیا میں ہمیں جو بے شمار مخلوقات نظر آتی ہیں، یہ خدا تعالیٰ کے بارے میں ہمیں ایک تصور دیتی ہیں کہ وہ خالق کیسا ہو گا، اس کی تخلیق میں کیسا تنوع ہے، کیسی جدت ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں species(انواع)ہیں جو دنیا کے اندر خدا نے پیدا کر دی ہیں۔بقول شیخ سعدی: 'ہر ورقش دفتریست معرفت کرد گار'۔(ہر پتے میں خدا کی معرفت کی ایک دنیا ہے ) اصل میں تو یہ ساری کی ساری کائنات اس طرح پیدا کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے سے آپ اپنے پروردگار کی معرفت حاصل کریں، کجا یہ کہ انسان اس کو صرف کھانے کی چیز سمجھ لے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author