جہیز

سوال:

جہیز کے بارے میں صحیح نقطۂ نظر کیا ہے؟


جواب:

شادی کے موقع پر والدین کا اپنی بیٹی کو جہیز دینا ایک معاشرتی رسم و رواج ہے۔ دین نہ اسے نکاح کی کوئی شرط قرار دیتا ہے اور نہ اس پر کوئی پابندی لگاتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ طریقہ بھی درست ہے کہ لڑکے کی طرف سے دی گئی مہر کی رقم ہی سے یہ جہیز خرید لیا جائے اور یہ بھی درست ہے کہ لڑکی کے والدین اپنی خوشی اور سہولت سے بیٹی کو بطور جہیز جو دینا چاہیں وہ دیں۔ دین کو اس پر نہ کوئی اعتراض ہے اور نہ وہ اس کی کوئی ترغیب ہی دیتا ہے۔

البتہ، یہ ایک اہم بات ہے کہ اگر یہ جہیز ایک ایسی رسم کی صورت اختیار کر جائے جو معاشرے میں ظلم و زیادتی اور دیگر مفاسد کا باعث بن جائے، اس کے نتیجے میں شادی بیاہ مشکل ہو جائے، جیسا کہ ہمارے معاشرے کی صورت حال ہے تو پھر دین اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا اور مسلمانوں کو یہ ترغیب دلاتا ہے کہ وہ اس میں موجود خرابیوں کو لازماً دور کریں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author