جہاد اور حکومت

سوال:

غامدی صاحب کہتے ہیں کہ جہاد صرف باقاعدہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو مجاہدین آزادی، مثلاً مجاہدین کشمیر یہ حکومت کہاں سے حاصل کریں؟


جواب:

تمام فقہا اس شرط پر متفق ہیں کہ جہاد کے لیے باقاعدہ حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ انسانوں کو دوسرے انسانوںکی جان لینے کی کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی، اس کے لیے اخلاقی جواز ضروری ہے۔ وہ حکومت کے اندر قتل اور بغاوت کا جرم اور حکومت سے باہر مظلوموں کی مدداور ظلم کا استیصال ہے۔ ان دونوں کاموں کے لیے حکومت کی شرط اس لیے ضروری ہے کہ اگر یہ کام حکومت کے انتظام کے تحت نہ ہو تو فساد اور انارکی بن کر رہ جاتا ہے اور امن وامان اور لوگوں کے جان ومال اور آبرو کی حفاظت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔

اب رہی آزادی کی جنگ تو یہ بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ نہیں ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ یا کوئی باقاعدہ حکومت یہ جنگ لڑے یا آزادی کے لیے جدوجہد صرف پرامن ذرائع تک محدود رہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ آزادی کی جدوجہد براہ راست کوئی دینی عمل نہیں ہے۔ یہ ایک دنیوی تدبیر ہے اور مسلمان جب بھی دنیا کے کام کرتا ہے تو وہ دین کی لگائی ہوئی پابندیوں سے آزاد نہیں ہوتا۔ مسلمان دنیا میں جہاں جہاں محکوم ہیں ، اگر وہ ظلم کا شکار ہیں یا انھیں ان کے دین پر عمل کرنے کی آزادی نہیں ہے تو وہ آزادی کی جدوجہد کر سکتے ہیں ، لیکن وہ اس کے لیے پابند ہیں کہ صرف پر امن ذرائع ہی اختیار کریں گے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author