جنات كا وجود

سوال:

ایک سوال عرض ہے کہ جنات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ پرویز صاحب کا کہنا ہے کہ جنات کا وجود اب اس دنیا سے ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابلیس مایوسی کو کہتے ہیں اور شیطان سے مراد اشتعال ہے۔ برائے مہربانی آپ اس معاملے میں اپنی رائے پیش کیجیے۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے۔

آپ نے جنات اور ابلیس کے بارے میں ہماری رائے دریافت کی ہے۔ اس ضمن میں آپ نے پرویز صاحب کی آراء کا حوالہ بھی دیا ہے۔

قرآن مجید کے معنی طے کرنے میں ہمارا اصرار ہے کہ الفاظ کے وہی معنی اختیار کیے جائیں گے جو قرآن کے زمانے کی عربی میں معروف ومتداول تھے۔ قرآن مجید میں بلسانك کی تصریح سے یہ حقیقت بخوبی سمجھی جا سکتی ہے۔ جنات ابلیس فرشتے عرب قوم کے متعین تصورات تھے۔ اگر قرآن مجیدمیں کوئی اور بات کہنا پیش نظر ہوتی تو ان تصورات کے لیے رائج الفاظ کو اختیار کرنے کے بجائے کوئی اور تعبیر اختیار کی جاتی۔ مزید یہ کہ قرآن کے واضح بیانات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسان سے الگ مختلف مخلوقات ہیں۔ پرویز صاحب کی مشکل یہ تھی کہ وہ تجربی استدلال Impiricism کے زمانے میں پیدا ہوئے اور ان باتوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے جو تجربی سائنس کے معیار پر پوری نہیں اتر سکتی تھی۔ ہمارے نزدیک ، ماورائے حواس حقائق کے ماننے کی بنیاد خبر پر ہے۔ اگر وحی اور پیغمبری کو ماننے لیا تو ان کے واسطے سے آنے والی اس طرح کی چیزوں کو ماننے میں کیا چیز مانع ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author