جنات کا وجود

سوال:

کیا جنات یا مؤکل موجود ہیں؟ لوگ ان سے رابطے کے لیے تسبیح پڑھتے اور چلے کرتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟کیا جنات قابو میں آجاتے ہیں اور ان سے کام لینا درست ہے؟


جواب:

مؤکل کا لفظ عامل حضرات کا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں اس طرح کی کسی چیز کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ جنات کا ایک مخلوق کی حیثیت سے ذکر ہے،جن کو انسان نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ یہ مخلوق انسانوں کو دیکھ سکتی ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ انسان ان سے رابطہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ قرآن وحدیث اس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ قرآن مجید سے، البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جنات انسانوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر سکتے ہیں اور ان کے برے لوگ انسانوں کے دلوں میں برے خیالات ڈالتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید کی بنیاد پر ہم صرف اتنی بات کہہ سکتے ہیں کہ جنات میں صلاحیت ہے کہ وہ انسانوں سے رابطہ پیدا کر لیں اور یہ رابطہ بھی محض دل میں خیا ل ڈالنے تک محدود ہے۔

عامل حضرات کا یہ دعویٰ کہ کچھ چلوں اور وظائف سے جنات سے رابطہ ہو جاتا ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی قرآن وحدیث سے تائید نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عامل حضرات کے اس دعوے کی قرآن وحدیث کی بنیاد پر بالکلیہ تردید بھی نہیں کی جا سکتی۔


اب رہا یہ سوال کہ کیا یہ چلے وغیرہ درست ہیں؟ ہمارے علم کی حد تک اس مقصد کے لیے کیے گئے اکثر چلے مشرکانہ اور اد اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ چنانچہ احتیاط اور ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ان سے گریز کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اگر کوئی صحیح چلے بھی دستیاب ہیں تو ان کو بھی موزوں قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ دین خدا کے ساتھ جس تعلق پر ہمیں قائم رکھنا چاہتا ہے، اس طرح کی سرگرمیاں اس میں صحیح جگہ پر قائم رہنے کو ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بنا دیتی ہیں۔ بندۂ مومن صحیح تدبیر کرتا ہے جو دنیا کے عام قانون اسباب پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کی کامیابی کے لیے محض اللہ تعالیٰ سے دعا پر انحصار کرتا ہے۔ اس طرح کے اوراد و وظائف اس صحیح روش کو مجروح کر دیتے ہیں۔ یہ آدمی نہ خدا پر اعتماد ہی میں صحیح روش پر قائم رہتا ہے اور نہ تدبیر کرنے میں وہ اس حکمت وتدبر کا مظاہرہ کر سکتا ہے جو اس کے لیے ضروری ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author