جمعے کی نماز

سوال:

جمعے کی فرض نماز کیا ہے؟


جواب:

جمعے کی نماز کے حوالے سے میں آپ کے سوال کے جواب میں استاد محترم کی کتاب ''میزان'' کا ایک اقتباس نقل کرتا ہوں۔ استاد محترم نے لکھا ہے:

''جمعہ کے دن مسلمانوں پر لازم کیا گیا ہے کہ نماز ظہر کی جگہ وہ اِسی دن کے لیے خاص ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں گے۔ اِس نماز کے لیے جو طریقہ شریعت میں مقرر کیا گیاہے، وہ یہ ہے:
یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی،
نماز ظہر کے برخلاف اِس کی دونوں رکعتوں میں قراء ت جہری ہوگی،
نماز کے لیے تکبیر کہی جائے گی،
نماز سے پہلے امام حاضرین کی تذکیر ونصیحت کے لیے دو خطبے دے گا۔ یہ خطبے کھڑے ہو کر دیے جائیں گے۔ پہلے خطبے کے بعد اور دوسرا خطبہ شروع کرنے سے قبل امام چند لمحوں کے لیے بیٹھے گا،
نماز کی اذان اُس وقت دی جائے گی، جب امام خطبے کی جگہ پر آجائے گا،
اذان ہوتے ہی تمام مسلمان مردوں کے لیے ضروری ہے کہ اُن کے پاس اگر کوئی عذر نہ ہو تو اپنی مصروفیات چھوڑ کر نماز کے لیے حاضر ہو جائیں،
نماز کا خطاب اور اُس کی امامت مسلمانوں کے ارباب حل وعقد کریں گے اور یہ صرف اُنھی مقامات پر ادا کی جائے گی جو اُن کی طرف سے اِس نماز کی جماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور جہاں وہ خود یا اُن کا کوئی نمائندہ اِس کی امامت کے لیے موجود ہو گا۔'' (332)

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author