کافر اور غیر مسلم میں فرق

سوال:

عام طور پر ہر غیر مسلم کو کافر کہا جاتا ہے، کیا یہ صحیح ہے کہ ہر غیر مسلم کافر ہوتا ہے یا ان دونوں میں فرق ہے؟


جواب:

کافر سے مراد وہ شخص ہے جو جان بوجھ کر حق کا انکار کرتا ہے، یعنی جس کے سامنے اسلام پیش کیا گیا یا اس نے خود سے اس کا مطالعہ کیا اور پھر اس کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ یہ حق ہے اور اسے قبول کرنا حق پرستی کا تقاضا ہے، لیکن اس نے جان بوجھ کر اس کو جھٹلا دیا اور اسے نہیں مانا تو ایسا شخص خدا کے نزدیک کافر شمار ہو گا۔
جو لوگ اسلام کو نہیں مان رہے، اگر ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور اسے ماننا ان کے لیے لازم ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس کا انکار کرتے ہیں تو بے شک وہ لوگ کافر شمار ہوں گے۔
غیر مسلم سے ہر وہ شخص مراد ہے جو مسلمان نہیں ہے اور ہمارے علم کی حد تک وہ جان بوجھ کر اسلام کا انکار بھی نہیں کر رہا کہ اسے کافر کہا جائے۔
دنیا کے بے شمار لوگ جو مسلمان نہیں ہیں، ان کا معاملہ کیا ہے؟ وہ کافر ہیں یا غیر مسلم؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ چونکہ ہم ان کے دل میں جھانک کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ اسلام کو جان بوجھ کر جھٹلا رہے ہیں یا وہ اس میں معذور ہیں، لہٰذا ہم انھیں غیر مسلم تو کہیں گے، لیکن کافر نہیں کہہ سکتے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author