کشف و الہام

سوال:

اصلاحی صاحب نے اپنی کتاب تزکیہ نفس میں صو فیا کے بارے میں جو رائے قائم کی ایک حق پرست کو وہی ذیب دیتا ہے۔ لیکن کچھ باتیں میری سمجھ میں نہیں آئیں ۔ آپ اس کو ذرا واضح کریں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ مدرجہ ذیل سے اصلاحی صاحب کی کیا مراد ہے۔ غامدی صاحب ایک شاگرد کے طور پر اس کی صحیح طور پر وضاحت کر سکتے ہیں۔

اصلاحی صاحب کہتے ہیں "کشف و الہام کے اس علم کے حصول کے ہم منکر نہیں ہیں لیکن یہ علم قابل قبول صرف اس حالت میں ہونا چاہیے جب یہ شریعت کے مطابق ہو"۔ ( تزکیہ نفس صفحہ ٧٦)دوسری جگہ اس کتاب میں لکھا ہے: ہمارے نزدیک اس طرح الہام یا کشف کاملین کو تو ہو سکتا ہے لیکن ہم ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ یہ الہام یا کشف رحمانی بھی ہو سکتا ہے۔" (تزکیہ نفس صفحہ٨٠) ان دو جملوں کو میں نہیں سمجھ سکا اس کی وضاحت کریں۔ میں غامدی صاحب کی اس بات کو مانتا ہوں جو انہوں نے نے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ محمدؐ کے بعد کشف، وحی، اور الہام کا کسی صورت قائل نہیں ہیں۔


جواب:

جس نوعیت کے کشف و الہام اور وحی کو اصلاحی صاحب درست نہیں سمجھتے وہ نبوت کا ایک جزو ہوتا ہے۔ جبکہ دیگر نوعیت کے الہام قرآنِ کریم سے خود واضح ہے کہ غیر انبیاء کو بھی ہوتے ہیں اور ایک حدیث میں بھی یہ بات بیان ہوئی ہے کہ خواب (مبشرات)کی صورت میں یہ دیگر لوگوں کو ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے بارے میں قرآن بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مکمل رہنمائی فرمائی کہ موسیٰ علیہ السلام کے پیدا ہونے کے بعد وہ کس طرح ان کے تحفظ کا اہتمام کریں۔ بلکہ ان پر یہ بھی واضح کردیا گیا کہ حضرت موسیٰ کو بچانے کے بعد ان کے پاس لوٹا دیا جائے گا اور آگے چل کر انہیں نبوت و رسالت عطا کی جائے گی۔
ظاہر ہے کہ نہ حضرت موسیٰ کی والدہ نبی تھیں اور نہ ہی یہ اس نوعیت کا الہام تھا بلکہ یہ وہی چیز تھی جسے حدیث میں مبشرات کہا گیا ہے۔ جو چیز اب نہیں ہوسکتی وہ یہ ہے کہ کسی کو اس نوعیت کا کوئی خواب یا الہام ہو جس میں شریعت کے کسی حکم کے خلاف کوئی کام کرنے کی رہ نمائی ہو۔
یہاں یہ مزید سمجھ لیجیے کہ نبی اور غیر نبی کے الہام میں ایک بنیادی فرق یہ پایا جاتا ہے کہ نبی پر جب بھی وحی و الہام ہوتا ہے اس کا مأخذ و مصدر اس ہر بالکل واضح ہوتا ہے۔ اُسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں بات براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا فرشتے کی طرف سے اس تک منتقل کی جارہی ہے۔ جبکہ دیگر لوگوں کا معاملہ یہ نہیں ہوتا۔ ان کا احساس یا تو وجدانی نوعیت کا ہوتا ہے یا پھر جیسا کہ ہم نے بیان کیا ایک خواب کی صورت میں بات القا کی جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ اس کے بعد اس الہام میں نہ یقین کا وہ عنصر باقی رہ سکتا ہے جو نبی کو حاصل ہوتا ہے نہ یہ شرعی طور پر معتبر ہوتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ حیثیت ایک ذاتی رہ نمائی کی ہوتی ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author