کبیرہ گناہوں کی معافی

سوال:

سنگین گناہ کی معافی کب تک مانگنی چاہیے، کیا کبیرہ گناہوں کی معافی تمام عمر مانگتے رہنا چاہیے، اور یہ کب اور کیسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے ؟


جواب:

اپنے کبیرہ گناہوں کی معافی تمام عمر مانگتے رہنا چاہیے ۔ نہ صرف معافی مانگتے رہنا چاہیے ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تلافی کرنے کی کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے۔ گناہوں کی معافی کے لیے ریاضتیں یا چلے درکار نہیں ہیں ، فقط سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواست گار ہونا کافی ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے نماز کی صورت میں نہایت اچھا اہتمام کر دیا ہے۔ہر نماز کے آخر پر دعا و مناجات کے ذریعے سے گناہوں پر توبہ کی جا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام سے منسوب اذکار سے دعا مانگنے کا سلیقہ سیکھا جا سکتا ہے ، کیونکہ ان میں سب گناہوں کی معافی کے لیے نہایت جامع کلمات ہیں۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author