خاتون کا نکاح پڑھانا

سوال:

کیا کوئی خاتون نکاح پڑھا سکتی ہے؟


جواب:

عورت نكاح پڑھا سکتی ہے ۔ نکاح ، اصل میں مرد و عورت کے درمیان علانیہ ایجاب و قبول کے ساتھ مستقل رفاقت کا عہد ہے۔ ایک لڑکا اور لڑکی اگر مجمع عام میں بیٹھ کر یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ آج سے ہم بیاہے گئے ہیں تو بس بیاہے گئے ۔ اس سے زیادہ اسلام میں قانون کا تقاضا نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک بڑی پاکیزہ مجلس ہوتی ہے، اس لیے اس کو خصوصی حیثیت دی گئی ہے۔ اس میں اس چیز کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ والدین شریک ہوں ، اعزہ و اقربا شامل ہوں، دوست احباب بھی آ جائیں تو انھی میں سے کوئی بزرگ اس موقع پر تذکیر و نصیحت کی باتیں بھی کر دے ۔ یہی عمل ہے جس کو نکاح پڑھانا کہتے ہیں ۔ یہ جس کا جی چاہے پڑھا لے ۔ خاتون پڑھانا چاہتی ہے ، پڑھالے، مرد پڑھانا چاہتا ہے ، پڑھا لے ۔ اسلام نے اس کے لیے کسی چیز کا پابند نہیں کیا۔ یہ ایک مستحب اور اچھا عمل ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں نکاح پڑھانا اب ایسے ہی بن گیا ہے ، جیسے کوئی منتر کرنا ہوتا ہے ۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author