خیراتی ادارے سے تنخواہ لینا

سوال:

میں ایک این جی او میں جنرل منیجر ہوں۔ یہ این جی او اپنے پیش نظر کاموں کے لیے لوگوں سے زکوٰۃ، صدقات، فطرانہ، قربانی کی کھالیں وغیرہ بطور اعانت (Donations) لیتی ہے۔ کیا اس ادارے میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے اپنی محنت کے عوض تنخواہیں اور کمیشن وغیرہ لینا جائز ہے؟


جواب:

جس طرح کسی بھی ادارے کے ملازمین کے لیے اپنی محنت کا معاوضہ لینا بالکل درست اور جائز ہے، اسی طرح خیراتی اداروں کے ملازمین کے لیے بھی اپنی محنت کا معاوضہ لینا بالکل درست اور جائز ہے۔ اس میں کسی طرح کی بھی کوئی قباحت نہیں، بلکہ وہ شخص جس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس ادارے کو اپنی خدمات بغیر معاوضے کے پیش کرے، وہ بھی اگر اپنی محنت کا معاوضہ لیتا ہے تو اس کے لیے بھی یہ بالکل درست ہو گا۔ جہاں تک خدا سے اجر پانے کا تعلق ہے تو اگر کسی خیراتی ادارے کے تنخواہ دار ملازمین حسن نیت سے ادارے کے مشن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے تو وہ ان شاء اللہ نیکی کے اس کام میں خدا سے اپنا اجر بھی پائیں گے۔
البتہ، جو شخص اپنی مرضی سے بغیر معاوضے کے کام کرنا چاہے، وہ بے شک کرے، وہ ان شاء اللہ اپنی نیت کے مطابق اللہ سے اجر پائے گا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author