کھڑےہو کر پیشاب کرنا

سوال:

کیا کھڑےہو کر پیشاب کرنا کرنا جائز ہے؟ قرآن اور حدیث اس سلسلہ میں کیا رہنمائی کرتے ہیں؟


جواب:

پیشاب کے بارے میں سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ یہ نجاست ہے۔ اور مومن کے لئے نجاست سے بچنا ضروری ہے۔ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں اس کا خدشہ ہے کہ لباس اور جسم ناپاک ہو جائے۔ قرآن مجید نے اس کی تفصیل نہیں بیان کی ۔ یہ بات عقل عام سے معلوم ہو سکتی ہے۔ کچھ صحابہ سے اس کی اجازت مروی ہے۔ البتہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:

من حدثكم أن رسول الله صلّى الله عليه وسلم كان يبول قائماً، فلا تصدقوه، ما كان يبول إلا قاعداً

جو کوئی بھی یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا اس کے بات کی تصدیق نہ کرو۔ آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے۔ (صحاح ستہ سوائے ابو داود)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں سے کچھ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔ اس کے علاوہ متعد د صحابہ کرام جن میں عمر اور علی رضی اللہ تعالی عنہما شامل ہیں سے اس کے جواز کی رائے روایت کی گئی ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یورینلز وغیرہ کے استعمال سے نجاست سے بچا جا سکتا ہو تو کھڑے ہو کر بھی پیشاب کیا جا سکتا ہے۔ اصل علت نجاست سے بچنا ہے اور اگر یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے تو ایسا کرنا جائز ہی ہو گا۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author