خلافت امير معاوية

سوال:

ميرا سوال آپ كے مضمون ''خلافت راشدہ كا تعارف'' كے بارے میں ہے۔اس مضمون کے مصنف کے مطابق امیر معاویہ بھی خلفاء راشدین میں سے تھے۔ اگر ہم یہ مان جائیں تو ان كی گستاخیوں کا کیا مطلب ہو گا جو انھوں نے مسجد میں حضرت علیؓ كی شان ميں كيں۔ یہ کہ یہاں مصنف رک کیوں گیا، اس نے یزید بن معاویہ کا ذکر کیوں نہیں کیا، اور آل مروان کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ دوسری بات یہ کہ جو مصنف نے بیان کیا ہے اسی طرح میں نے غامدی صاحب سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسحاق اور بنی اسماعیل کوخصوصی طور پر نبوت کے لیے منتخب کیا ہے ، تو جب محمدؐ آئے تو بنی اسماعیل ان کا پیغام پھیلانے کے ذمہ دار بنے،اگر ہم یہ قبول کر لیں تو شیعہ مسلک کا امامت کے بارے میں جو دعوٰی ہے وہ کیوں غلط ہے؟ وہ یہی بات بہت مختلف انداز میں کہتے ہیں کہ نبیؐ کے بعد پورے قریش کو نہیں بلکہ صرف بنو ہاشم کو منتخب کیا گیا تھا۔ وضاحت فرمائیے۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے ۔ آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے۔

آپ نے میرے مضمون خلافت راشدہ کا تعارف کے حوالے سے پوچھا ہے کہ کیا میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ راشد مانتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ کہ میرے مضمون ہی میں اس سوال کا جواب موجود ہے۔ لیکن میں یہاں مختصرا یہ عرض کروں گا کہ میرے نزدیک اس دور کی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم ہونا چاہے ایک صحابہ کی حکومت اور دوسرے صحابہ کے بعد کا دور حکومت اسی وجہ سے میں نے اس دور کا جائزہ لینے کے لیے اس حضرت معاویہ تک پھیلا دیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی امامت کے خدائی فیصلے کی روشنی میں بنی اسماعیل کے اقتدار کو دیکھیں تو بات واضح ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کے بعد اقتدار بنی اسماعیل کے حوالے ہو گیا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بنی اسماعیل کے طرز حکومت میں تبدیلیاں ہوئیں اور ان کے حکمرانوں کی شخصیت میں بھی فرق نمایاں ہوتا رہا۔ خلیفہ راشد وہی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ طرز حکومت کے مطابق حکومت کرتا رہا ہے۔

دوسری بات آپ نے یہ پوچھی ہے کہ استاد محترم کابنی اسماعیل کے بارے میں تصور اور شیعہ کا امامت کا تصور ملتی جلتی چیزیں لگتی ہیں پھر ہم شیعہ کو غلط کیوں کہتے ہیں۔ ایک فرق تو آپ نے خود لکھا ہے کہ شیعہ بنی ہاشم تک محدود کرتے ہیں۔ یہ بات بھی درحقیقت ان کے عقیدے کا صحیح بیان نہیں ہے۔ شیعہ اصلا اس بات کے قائل ہیں کہ امام کا تقرر خدا کی طرف سے ہوتا ہے ان کے ہاں بنی اسماعیل کی امامت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی امام تھے۔ لیکن ان کی امامت کا حق انھیں نہیں دیا گیا۔ اسی طرح اگلے امام بھی خدا کی طرف سے مقرر ہوتے رہے ہیں اور یہ بات پچھلا امام واضح کرکے جاتا ہے۔ استاد محترم کیا بات کا شیعہ تصور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author