خود کش حملے اور علما

سوال:

جو لوگ جاہل علماکی باتوں میں آکر خودکش دھماکے کرتے ہیں، اس میں علما کو سزا ہو گی یا دھماکے کرنے والے کو قصور وار ٹھہرایا جائے گا؟


جواب:

قرآن مجید میں اہل جہنم کا ایک مکالمہ نقل ہوا ہے، اس میں اتباع کرنے والے اپنے بڑوں سے کہتے ہیں:ہم تمھارے پیرو تھے، کیا تم ہمارے عذاب میںسے ہمارا کچھ بوجھ ہلکا کرو گے؟ وہ جواب میں کہیں گے کہ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم تمھیں بھی راہ ہدایت دکھاتے۔ اب ہمارے لیے یکساں ہے، ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں، فرار کی کوئی راہ نہیں۔(ابراہیم 14: 21)

اس مکالمے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر آدمی اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو جو سوجھ بوجھ دی ہے ، وہ اسے استعمال کرتاہے اور اسی بات کو اختیار کرتا ہے جو اس کے نزدیک درست ہوتی ہے ، اس لیے وہ اپنے کیے کا انجام بھی خود ہی دیکھے گا۔ اگر کسی نے کوشش اور محنت کے باوجود غلط راے قائم کی اور اس پر عمل کیا تو اس کا عذر اللہ کی رحمت سے قبول ہو گا، بشرطیکہ وہ حق کا سچا طالب ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author