كيا مرحوم بيوی نا محرم بن جاتي ہے؟

سوال:

میں نے سنا ہے کہ ایک شخص کی بیوی کی وفات کے بعد وہ اس (اپنے خاوند) کے لیے نا محرم ہو جاتی ہے۔ وہ شخص جو کہ رنڈوا ہو جاتا ہے اس (اپنی مرحوم بیوی) کو چھو بھی نہیں سکتا، حتی کہ اس کے قریب آ کر اس کو دیکھ بھی نہیں سکتا۔ لیکن اگر کسی عورت کا شوہر وفات پا جائے تو وہ عورت اپنے شوہر کو غسل بھی دے سکتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بیوی کی وفات کے بعد نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے اس لیے وہ اپنے شوہر کے لیے نا محرم بن جاتی ہے۔میں ان تمام مسائل کے بارے میں کافی پریشان ہوں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

آپ نے جو بات سنى ہے، وه صحيح ہے. ہمارےفقہا يہ بات اسى طرح بيان كرتے ہيں. ان كى اس بات كى بنياد يہ سوال ہے كہ اگر كسى آدمى كى بيوى كا انتقال ہوجائےتو كب اس كے ليے اپنى بيوى كى بہن سے نكاح جائز قرار پاتا ہے، كيونكہ قرآن نے ايك نكاح ميں دو بہنوں كو جمع كرنا حرام ٹهہرايا ہے.

1- كيا اس كے وفات پانے كے كچھ عرصہ بعد؟

2- كيا اُس كى لاش كے دفنا دينے كے فوراً بعد ؟

3- كيا اس كےوفات پانے كے فوراً بعد ؟

فقہا اس كا جواب يہ ديتے كہ قانونى طور پر بيوى كى وفات كے فورا بعد اس كى بہن سے نكاح جائز ہو جاتا ہے. وه اس بات كا لازمى تقاضا يہ محسوس كرتےہيں كہ وفات كے فوراً بعد بيوى كے مرده جسم كو شوہر كے ليے نامحرم خاتون كا جسم قرار دے ديا جائے.

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author