کرایہ اور سود

سوال:

کیا ہر شے پر متعین مدت میں متعین اضافہ لینا حرام ہے میری مراد یہ ہے کہ مکان کا کرایہ بھی تو متعین مدت میں متعین اضافہ ہی ہوتا ہے؟


جواب:

مکان کا کرایہ لینا حرام نہیں ہے ،جبکہ روپے کا کرایہ، یعنی سود لینا حرام ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ان اشیا پر کرایہ لینا جائز ہوتا ہے جو استعمال کی جاتی ہیں، صرف نہیں کی جاتیں۔ مثلاً جب آپ گھر کرایے پر لیتے ہیں تو آپ اسے بیچ کر اس کے عوض کوئی اور مال نہیں لیتے، بلکہ مکان جیسے ہوتا ہے ویسے کا ویسا پڑا رہتا ہے، بس آپ اس میں رہایش اختیار کرتے ہیں اور جب آپ روپیہ قرض پر لیتے ہیں تو آپ اسے مکان کی طرح ایک جگہ پر پڑا نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے مارکیٹ میں صرف کر کے اس کے بدلے میں کوئی اور شے لیتے ہیں، پھر اسے کہیں لے جا کربیچتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے کاروبار میں ہو سکتا ہے کہ جو چیز آپ نے روپے کے عوض خریدی ہے، وہ کہیں ضائع ہو جائے، اس میں کوئی کمی واقع ہو جائے، اسے کوئی آفت لاحق ہو جائے یا وہ مطلوبہ قیمت پر نہ بکے۔ بہرحال اب آپ کو قرض خواہ کی رقم یہ شے بیچ کر اس کی قیمت میں سے ادا کرنی ہے۔ اس صورت میں معاملہ مکان کے کرایے والا نہیں رہتا، بلکہ اس میں کئی طرح کے خطرات شامل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس پر متعین مدت میں متعین اضافہ بالکل ناجائز ہے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author