کسی کے واجب القتل ہونے کا فتوٰی دینا

سوال:

کچھ دن پہلے جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عالم آن لائن‘‘ میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی طرف سے یہ بات کہی گئی کہ پاکستان میں موجود قادیانی ’واجب القتل‘ ہیں ۔ اِس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات تو ملک میں آگ لگا سکتے ہیں اور اِن سے کسی خیر کے برآمد ہونے کی اُمید نہیں کی جا سکتی۔پاکستان کے لوگ ویسے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ، ایسے وقت میں اس طرح کے بیانات ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی کا سبب بنیں گے۔ ابھی اسی طرح کی باتوں کی وجہ سے سندھ میں دو قابل قادیانی ڈاکٹروں کو قتل کیا گیا ہے ۔ اس طرح کی بیان بازیوں کے ذریعے عامر صاحب لوگوں کی کون سی خدمت بجالا رہے ہیں اور اس طرز کے بیانات کی وجہ سے قتل کیے جانے والے اِن ڈاکٹروں کے قتل کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر اس طرح کے فیصلے کرنے کا مجاز نہیں ہے ، بلکہ اس طرح کے معاملات کا فیصلہ کرنا خدا، اُس کے رسول اور اُس کی کتاب کا کام ہے اور ہمیں اِن معاملات کو اُنہی پر چھوڑ دینا چاہیے ۔ معاشرے کے ہر دردمند اور ذمہ دار شخص کو اس طرح کے بیانات اور قتلوں کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے ۔مجھے بتایا جائے کہ کیاکوئی شخص اس طرح اپنے طور پر کسی کے ’واجب القتل‘ ہونے کا فتویٰ دے سکتا ہے ؟


جواب:

کسی فرد یا شخص کو سامنے رکھ کر رائے دینا ہمارا طریقہ نہیں ۔ ہم اصول میں اپنی رائے بیان کر دیتے ہیں ۔ کسی غیر مسلم کو اس کے غیر مسلم ہونے کی بنیاد پر قتل نہیں کیا جا سکتا۔ احمدی حضرات کو چونکہ پاکستانی ریاست غیر مسلم قرار دے چکی ہے اس لیے ان کی جان ، مال، آبرو کو وہی تحفظ حاصل ہے جو کسی او رغیر مسلم کو حاصل ہے ۔

ہمار ے اہلِ علم ارتداد کی سزا موت قرار دیتے ہیں ۔گو ہمارا نقطۂ نظر اس معاملے میں مختلف ہے تاہم جو لوگ اس بات کے قائل ہیں وہ بھی کسی فرد کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اٹھ کر کسی کا قتل کر دے ۔اُن کے نزدیک بھی اقدام کی ذمہ داری ریاست کی ہے نہ کہ فرد کی۔ ایک فرد کو یہ حق کسی صورت میں نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی صوابدید پر کسی دوسرے کی جان کے درپے ہوجائے ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author