کسی کو کافر قرار دینا

سوال:

کیا اسلامی شریعت کے مطابق ہم کسی کو کافر قرار دے سکتے ہیں؟


جواب:

اسلامی شریعت کے مطابق کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا، حتیٰ کہ کوئی اسلامی ریاست بھی کسی کی تکفیر کا حق نہیں رکھتی۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتی ہے کہ اسلام سے واضح انحراف کی صورت میں کسی شخص یا گروہ کو غیر مسلم قرار دے دے، کافر قرار دینے کا حق اس کو بھی نہیں ہے ۔ دین کی اصطلاح میں کافر قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی ہے اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس نے ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر دین کا انکار کیا ہے۔ دین کی کامل وضاحت جس میں غلطی کا کوئی شائبہ نہ ہو، صرف اللہ کا پیغمبر اور ان کے تربیت یافتہ صحابہ ہی کر سکتے تھے ۔ اس وجہ سے اتمامِ حجت کے بعد تکفیر کا حق دین نے انھی کو دیا ہے ۔ ان کے بعددین کی کامل وضاحت چونکہ کسی فرد یا اجتماع کے بس کی بات نہیں ہے، اس لیے اب تکفیر کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ ہم لوگوں کو اب اس کی جسارت بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ہم کسی کے عقیدے کو باطل یا کفر سمجھتے ہیں تو ہمیں پوری درد مندی کے ساتھ اسے نصیحت کرنی چاہیے اوردلائل اور حکمت کے ساتھ اس کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے زیادہ ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author