کرسی پر نماز پڑھتے ہوئے سجدے کی ہیئت

سوال:

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کیا سجدے کے لیے اتنا کافی ہے کہ آدمی تھوڑا سا جھک جائے یا کوئی سرہانا یا سخت چیز رکھ کر اس پر باقاعدہ سر رکھنا چاہیے؟


جواب:

نماز کی اصل ہیئت کے جس قدر قریب ہوں، اتنا ہی اچھا ہے۔ بیماری اور تکلیف میں رخصت کا مطلب صرف یہ ہے کہ نماز کے وقت پر ہر حال میں نماز پڑھی جائے اور کسی مجبوری کو اس راہ میں حائل نہ ہونے دیا جائے۔ ہیئت میں رخصت کتنی ہے، یہ بات طے نہیں کی گئی۔ نمازی کی معذوری، حالات اور مزاج کے فرق کی وجہ سے یہ اسی پر چھوڑنا بہتر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ آپ والی مثال لے لیں کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا کہاں ہے؟ گھر میں ہے؟ مسجد میں ہے؟ سفر میں ہے؟ کسی کے ہاں مہمان ہے؟ کتنا جھک سکتا ہے؟ کرسی کون سی دستیاب ہے؟ مراد یہ ہے کہ ہر ہیئت اور حالات میں نماز کی اصل ہیئت سے قربت کی صورت بدل جائے گی۔ چنانچہ نمازی، اس کی بیماری اور دستیاب حالات، تینوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ ہو گا کہ نماز ادا کرنے کی بہتر صورت کیا ہوگی۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author