کیا اللہ کے رسول قتل ہو سکتے ہیں؟

سوال:

"رسول کبھی قتل نہیں ہوا البتہ نبی قتل ہوئے ہیں"، یہی فقرہ اکثر جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے دیگر ہم نظریہ علماء کی تحریروں میں ملاحظہ کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں تقریباً ۵ موقعوں پر نصوص موجود ہے کہ بنی اسرائیل نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کو قتل کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں کہ"اگر یہ قتل ہو جائیں تو"۔ اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ یہاں پر قتل کا احتمال بیان ہو رہا ہے تو پھر احتمال ان کے فوت ہونے کے بارے میں بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیے۔


جواب:

قرآنِ کریم میں جن مقامات پر بنی اسرائیل کے حوالے سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو قتل کیا، اُن آیات پر میں اپنے ایک مضمون میں تفصیلی بحث کرکے یہ بتاچکا ہوں کہ ان کا صحیح مفہوم کیا ہے۔ یہ مضمون ماہنامہ اشراق لاہور کے مئی 2010 کے شمارے میں شائع ہوا ہے اور المورد کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ آپ اس میں میرا تفصیلی استدلال ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ جہاں تک سورہ آلِ عمران کی آیت 144 کا تعلق ہے، اس پر بھی میں نے اس مضمون میں گفتگو کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اس آیت میں رسول کے قتل کا جو بظاہر امکان بیان کیا جارہا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی رسول کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔

میں نے بعض دیگر آیات کے حوالے سے اس اسلوب کی وضاحت کی ہے۔ میرے نزدیک قرآنِ کریم کی ایک دوسری آیت صراحت کے ساتھ یہ بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے اور اس آیت کی موجودگی میں یہ مانا ہی نہیں جاسکتا کہ مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ آیت درج ذیل ہے:

''اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچادو۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بے شک خدا منکروں کو ہدایت نہیں کرتا۔''، (مائدہ67:5)

یہ آیت صراحت کے ساتھ یہ بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن کی ادائیگی کے دوران اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے اور اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ لوگوں سے آپ کو بچائے رکھے گا۔ یہ آیت اس معاملے میں نصِ قطعی ہے اور اس کی موجودگی میں رسول کے قتل کے امکان کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ جہاں تک آپ کے اس سوال کا تعلق ہے کہ سورہ آلِ عمران کی آیت میں رسول اللہ کی وفات کا بیان بھی ہے تو اس معاملے میں بھی قرآنِ کریم کی ایک دوسری آیت ہی ہماری رہنمائی کرتی اور یہ بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک دن اس دنیا سے وفات پاکر اسی طرح رخصت ہونا تھا جس طرح دوسرے انسان ہوتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

''اے پیغمبر تمہیں بھی مرنا ہے اور یہ لوگ بھی مرجائیں گے۔''، (زمر30:39)

ہمارے نزدیک سورہ آلِ عمران کی آیت 144 کو دیکھنے کا درست طریقہ یہی ہے کہ سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت اور سورہ زمر کی اس آیت کو سامنے رکھ کر اس کا مفہوم سمجھا جائے۔ جب ایسا کیا جائے گا تو یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا امکان بہرحال ایک حقیقت تھا۔ البتہ آپ کے قتل کا امکان ایک خاص پس منظر کی وجہ سے زیرِ بحث آگیا۔ وہ پس منظر یہ تھا کہ جنگِ احد میں مسلمانوں کے لشکر کے علمبردار حضرت مصعب بن عمیرؓ کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے، کفار نے شہید کردیا اور پھر مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کے لیے میدانِ جنگ میں یہ افواہ پھیلادی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کردیا گیا ہے۔ یہ خبر میدانِ کارزار میں مسلمانوں پر ایک بجلی بن کر گری اور وہ پست حوصلہ ہوکر بیٹھ گئے۔ مسلمانوں کی اس غلطی پر اس آیت میں انہیں توجہ دلائی جارہی ہے کہ ان کی وابستگی دراصل اُس اللہ کے ساتھ ہونی چاہیے جو زندہ ہے اور جسے کبھی موت نہیں آنی۔ باقی رہے رسول تو خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یا دوسرے رسول، انہیں بہرحال ایک روز اس دنیا سے چلے جانا ہے،وہ ہميشہ باقی رہنے والے خدا نہيں ہيں۔ مسلمانوں کے علم اور عمل کا انحصار رسول کے ہونے یا نہ ہونے پر نہیں ہونا چاہیے۔ انھيں اگر موت آگئی يا جس طرح تم نے سمجھا تھا کہ وہ قتل ہوگئے، سواگر ايسا ہواتوکيا تم دين سے پھر جاؤگے۔

یہی اس آیت کا ہمارے نزدیک اصل مدعا و مفہوم ہے جس ميں قتل کا تذکرہ لوگوں ميں پھيل جانے والی ايک افواہ کے حوالے سے برسبيل تنزل آگيا ہے۔ جو لوگ اس سے آگے بڑھ کر اس آیت سے رسول کے قتل کا امکان بیان کرتے ہیں، وہ سورہ مائدہ کی مذکورہ بالا آیت 67 کی روشنی میں صریح غلطی پر ہیں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author