کیا کیبل کی آمدنی جائز ہے

سوال:

کیا کیبل کے اس بزنس کی آمدنی جائز ہے جس میں صرف وہی چینل دکھائیں جائیں جن کی قانون اجازت دیتا ہے؟


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ کیا کیبل کے اس بزنس کی آمدنی جائز ہے جس میں صرف وہی چینل دکھائیں جائیں جن کی قانون اجازت دیتا ہے۔

اصولا ٹی وی نشریات مباحات کے دائرے کی چیز ہیں۔ یعنی یہ اصولی حیثیت میں نہ گناہ کا مسئلہ ہیں نہ ثواب کا لیکن ان کی نوعیت اس کو جائز اور ناجائز بنا دیتی ہے۔ وہ نشریات جن میں کوئی بھی اخلاقی خرابی ہے ان کے نشر کرنے والے گنہگار ہیں۔ اس میں ہر ایک اپنی شرکت کے اعتبار سے سزا کا مستحق قرار پائے گا۔ پاکستان میں جن چینلز کو قانونی اجازت حاصل ہے ان پر بھی ایسی چیزیں آتی ہیں جو قابل اعتراض ہیں مراد یہ ہے کہ ان کو پھیلانے سے گناہ ہوتا ہے۔

بہتر یہ ہے کہ آپ اس سے بچیں لیکن یہاں میں یہ وضاحت کر دوں قانونی چینلز کو چلانے سے حاصل ہونے والی آمدنی اصولا جائز ہے۔ گناہ کا پہلو آمدنی میں نہیں بعض نشریات میں ہے لیکن آپ اگر جان بوجہ کر ایسی فلمیں یا گانے یا فحاشی پر مبنی کوئی بھی چیز نشر کریں گے تو آمدنی بھی ناجائز ہو جائے گی۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author