کیا فرعون کی لاش محفوظ ہے؟

سوال:

1898ء میں ایک لاش کو فرعون کی لاش سمجھ کر محفوظ کیا گیاہے۔ کیا قرآن میں ایسا کوئی ذکر ہے؟ کیا یہ واقعی فرعون کی لاش ہوگی؟


جواب:

قرآن مجید کی سورۂ یونس میں فرعون کی لاش کے محفوظ ہونے کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:

فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً ، وَاِنَّ کَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ. (10: 92)

''پس آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے اور بے شک، بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیں۔''

اس آیت کی شرح میں مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

''قدرت کے انتقام کی اس عظیم نشانی کے اندر ایک دوسری عظیم نشانی یہ ظاہر ہوئی کہ فرعون کی لاش کو سمندر نے قبول نہیں کیا ، ـــ بلکہ اس کو ایک نشان عبرت بنانے کے لیے باہر پھینک دیا اور یہ لاش بعد میں لوگوں کو ملی بھی اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جو خدائی کا مدعی تھا، اس کا انجام کیا ہوا ـــــــمصرمیں لاشوں کو ممی کرکے محفوظ کرنے کا رواج تھااور ایک فرعون کی ممی کی ہوئی لاش قاہرہ کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ اس لاش کے بارے میں اثریات کے ماہرین چاہے اختلاف کریں کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے یا کسی اور کی۔ لیکن ان کے اٹکل پچو اندازوں کے مقابل میں قرآن کا یہ چودہ سو سال پہلے کا بیان زیادہ قابل اعتماد ہے۔ اس طرح قدرت نے اس کی لاش کو عبرت کی ایک ایسی نشانی بنا دیا جو آج کے فرعونوں کے لیے بھی محفوظ ہے، لیکن دیکھنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت ہے اور اس دنیا میں عبرت پذیر آنکھوں سے زیادہ کم یاب کوئی شے بھی نہیں 'وَاِنَّ کَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ' میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔'' (تدبر قرآن 4/84۔85)

مولانا وحید الدین خان نے بھی کم وبیش یہی بات لکھی ہے:

''خدا سے نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے ، اس کا نمونہ دور رسالت میں بار بار انسان کے سامنے آتا تھا۔ تاہم اس قسم کے کچھ نمونے خدا نے مستقل طور پر محفوظ کر دیے ہیں تاکہ وہ بعد کے زمانہ میں بھی انسان کو سبق دیتے رہیں جبکہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا ہو۔ انھی میں سے ایک تاریخی نمونہ فرعون موسیٰ (رعمسیس ثانی) کا ہے جس کی ممی کی ہوئی لاش ماہرین اثریات کو قدیم مصری شہر تھیبس(Thebes) میں ملی تھی اور اب وہ قاہرہ کے میوزیم میں نمایش کے لیے رکھی ہوئی ہے۔'' (تذکیر القرآن1/555)

مولانا اصلاحی کے تفسیری بیان سے واضح ہے کہ لاش کے محفوظ رہنے سے اصلاً مراد اس کا سمندر میں گم نہ ہونا ہے۔ باقی رہا اس کا ہمیشہ کے لیے محفوظ ہونا تو یہ بعید از قیاس نہیں ہے ۔ فرعونیوں کا لاشوں کو ممی بنانا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ غرق ہونے والے فرعون کی لاش کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا ہو گا۔ یہ کافی قرین قیاس ہے کہ موجودہ زمانے میں اس کی ممی کی ہوئی لاش دریافت ہو جائے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author