کیا جہیز کو میراث کے حصے کا بدل کہا جا سکتا ہے؟

سوال:

ہمارے معاشرے میں عام طور پر بیٹیوں کو ماں باپ کی وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان کے بھائی چاہتے ہیں کہ اپنے ماں باپ کی ساری میراث پر وہی قبضہ کر لیں، اس کے لیے وہ درج ذیل دو دلائل خاص طور پر پیش کرتے ہیں:


پہلا یہ کہ بہنوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خوشی سے اپنا حصہ اپنے بھائیوں کے لیے چھوڑ دیں، کیا انھیں اپنے بھائیوں کا خیال نہیں ہے؟
دوسر ایہ کہ لڑکیوں کی شادیوں پر چونکہ ان کے والدین اور بھائیوں نے اخراجات بھی کیے ہیں اور انھیں جہیز بھی دیا ہے۔ لہٰذا ایک طرح سے وہ اپنا حصہ لے چکی ہیں اور اب ان کا میراث کا مطالبہ درست نہیں ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا بھائیوں کا یہ رویہ درست ہے اور کیا جہیز کو میراث کے حصے کا بدل کہا جا سکتا ہے؟


جواب:

ہمارے معاشرے میں یہ بات عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے کہ صرف بھائی ہی نہیں والدین بھی بیٹیوں کو اپنی میراث سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ اپنی زندگی ہی میں طرح طرح کے حیلے بہانے اختیار کرتے ہیں۔
بہرحال، لڑکیوں کو میراث سے ان کے بھائی محروم رکھنا چاہیں یا ان کے والدین اپنی زندگی ہی میں اس کا کوئی حیلہ اختیار کریں، دونوں صورتوں میں یہ بات سرتا سر ظلم ہے اور خدا کے ہاں اس کی جواب دہی ہو گی۔ والدین کی میراث میں خدا نے جیسے بیٹوں کا حصہ رکھا ہے، اسی طرح بیٹیوں کا حصہ بھی رکھا ہے۔ حصہ کی مقدار کا فرق تو ضرور ہے، لیکن حصہ دار ہونے میں دونوں کو ایک جیسی حیثیت حاصل ہے۔ جو شخص کسی وارث کی اس حیثیت کو عملاً بدلتا ہے، وہ خدا کے فیصلے کو ناپسند کرتا اور اسے بدلتا ہے اور یہ چیز بہت بڑا جرم ہے۔ سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

''یہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن سے آگے نہ بڑھو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی ٹھیرائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنھیں ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔'' (4: 13۔14)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح طور پر بیان کر دیا ہے کہ خدا کی طرف سے میراث کے یہ طے شدہ حصے خدا کی حدیں ہیں۔ ان حصوں کو بدلنا یا انھیں پامال کرنا خدا کی حدوں کو توڑنا ہے اور جو خدا کی حدوں کو توڑے گا ، اس کے لیے ایسی آگ ہو گی جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کر دینے والا عذاب ہو گا۔

جہیز کا میراث کے حصے سے کوئی تعلق نہیں۔ جہیز ایک معاشرتی رسم ہے۔ لڑکی کو ماں باپ کے جہیز دینے سے اس (لڑکی) کے حصے کی میراث میں سے ایک پائی بھی ادا نہیں ہوتی،لہٰذا وہ جہیز دیں یا نہ دیں، انھیں میراث میں حصہ دینا ہو گا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author