کیا خدا اذیت پسند ہے؟

سوال:

کیا خدا اذیت پسند ہے؟ وہ اپنے محبین کو آزمائش میں ڈالتا ہے۔ قربانیاں طلب کرتا ہے۔ اسے پسند ہے اس کے بندے اس کے سامنے گڑگڑائیں۔ اس نے کائنات میں ایک جاندار کی زندگی کا دارومدار دوسرے کی اذیت ناک موت میں رکھا ہے۔ جزا سزا کا سارا نظام ہی اذیت پسندی کا مظہر معلوم ہوتا ہے۔ جواب مرحمت فرما کر ممنون کیجیئے۔


جواب:

اﷲ تعالیٰ پر اذیت پسندی کا سوال اٹھاتے ہوئے اس ای میل میں جو مقدمات قائم کیے گئے ہیں وہ غلط فہمی اور سوء فہم پر مبنی ہے۔ہم ان تمام کو ایک ایک کرکے لے لیتے ہیں۔

۱) پہلی بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے محبین کو آزمائش میں ڈالتا ہے:

یہ بات درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تو تمام انسانوں کو آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ تاہم یہ بات سمجھ لیجیے کہ آزمائش یا امتحان قطعاً کوئی بری چیز نہیں ہوتی۔انسان کی صلاحیتیں اسی سے نکھرتی ہیں۔ اسی لیے ہم سب اپنے بچوں کی تربیت اور تعلیم میں امتحان کو ایک لازمی حصہ بناتے ہیں۔اس عمل میں ہمارے بچے مشقت جھیلتے، محنت کرتے، نیند اور آرام خراب کرتے ، ٹینشن اور بوجھ لیتے ہیں۔کیا اس کامطلب یہ ہے کہ ہم سب اذیت پسند ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ یہ انسان کی صلاحیت کو جلا بخشنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ہم معقول انسان یہ بات سمجھ سکتا ہے۔

۲) اﷲ تعالیٰ قربانیا ں طلب کرتا ہے:

اس سے آپ کا اشارہ یا تو یہ ہے کہ ہم عید الاضحی کے موقع پر جانور قربان کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ اگر اذیت پسندی ہے تو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے علاوہ اربوں لوگ کروڑوں جانوروں کا ذبح کرکے انہیں کھاتے ہیں۔ پھر تو یہ الزام ہم سب پر ہی عائد ہوجاتا ہے۔ جو ظاہر ہے حقیقت نہیں ہے۔دوسرا ممکنہ مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ پنے بندوں سے جان و مال کی قربانی کے مطالبات کرتاہے۔ یہ بات درست ہے کہ اﷲ تعالیٰ مطالبات کرتے ہیں، مگر میں دین کا ہر حکم اور ہر مطالبہ لے کر یہ بتاسکتا ہوں کہ ان میں سے کسی سے بھی اﷲ تعالیٰ کو کبھی کوئی فائدہ نہیں ملتا۔ اس کا سارا کا سارا فائدہ انسانوں ہی کو ملتا ہے۔یہ فائدہ آخرت ہی کا نہیں بلکہ اس کے قبل اس دنیا کا بھی ہے۔ یہ صرف فرد ہی کا نہیں پورے معاشرے کا بھی فائدہ ہے۔مثلاً اسی قربانی کے حکم کو لیجیے ۔ کیا یہ گوشت اﷲ تعالیٰ کو بھیجاجاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ گوشت ہم لوگ کھاتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ انسان جب تہوار کو مناتے ہیں تو لذیذ کھانے اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اﷲ نے تو ہمارے لیے ایک بہترین تہوار اور خوشی منانے اور مزے اڑاکا موقع فراہم کیا ہے ۔ اس سے اسے کیا فائدہ۔اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ وہ عمل ہے جس کی بدولت معاشرے کے غربا کم از کم سال میں ایک دفعہ پیٹ بھر کر وہ کھانا کھاتے ہیں جسے ساری دنیا کے انسان لذیذ ترین کھانا مانتے ہیں۔ کیا غریبوں کا سال میں ایک دفعہ پیٹ بھر گوشت کھانے کا فائدہ اﷲ تعالیٰ کو ہوتا ہے یا پھر معاشرے کے غریب طبقات کو ہوتا ہے؟

باقی آخرت کا جو فائدہ ہے وہ بھی بیان ہوسکتا ہے، مگر ظاہر ہے سوا ل میں جو ذہن کارفرما ہے وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتا۔

۳)ا سے پسند ہے اس کے بندے اس کے سامنے گڑگڑائیں:

میرا سوال یہ ہے کہ اس میں کیا برائی ہے۔ خدا کے آگے گڑگڑانا تو بے حد روحانی سکون کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس میں اذیت پسندی کا کیا سوال ہے؟ سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس کے آگے گڑگڑانا درست ہے یا نہیں یا وہ اس کا مستحق ہے یا نہیں۔کائنات اپنے جس رب کا تعارف کراتی ہے اس کے آگے گڑگڑانا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے سامنے نہ گڑگڑانا ایک حماقت ہے۔ ایک ہستی قدرت اور عنایت کی اس جگہ کھڑی ہو جس کا تعارف یہ کائنات کراتی ہے اور اس کے بعد اس کے آگے نہ گڑگڑایا جائے تو پھر سوال اس آدمی پر اٹھنا چاہیے نہ کہ اﷲ تعالیٰ پر۔ کوئی شخص اگر رب العالمین کی نعمتیں اور عظمتیں گنوانا شروع کرے تو ہزار زندگیاں بھی اس کے لیے ناکافی ہیں۔بہتر ہوگا کہ کبھی کسی ہسپتال کا چکر لگالیا جائے ۔ وہاں جاکر سمجھ میں آجائے گاکہ وہ صحت جیسی عام نعمت چھین لے تو کیا ہوتا ہے۔

۴)اس نے کائنات میں ایک جاندار کی زندگی کا دارومدار دوسرے کی اذیت ناک موت میں رکھا ہے:

یہ بات ٹھیک ہے کہ کائنات میں ایک کی موت پر دوسرے کی زندگی منحصر ہے۔ مگر آپ نے کبھی غور نہیں فرمایا کہ یہ موت اور اس کی اذیت ہی ہے جو انسانوں کی زندگی کی طرف اس طرح دوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ زندگی کی ساری جدوجہد اور ساری دوڑ و دھوپ صرف اسی حقیقت کی وجہ سے ہے۔ یہ نہ ہو تو زندگی سے سعی وجہد کا سارا عنصر ختم ہوجائے گا۔ یہ ایک حکیم کی بے مثال منصوبہ بندی ہے ،کسی اذیت پسند کی اذیت رسانی کا کھیل نہیں۔

۵)جزا سزا کا سارا نظام ہی اذیت پسندی کا مظہر معلوم ہوتا ہے:

یہ اعتراض بھی سزا و جزا کے فلسفے کو نہ سمجھنے اور اس کی اہمیت سے ناواقفیت کی بنا پر کیا جارہا ہے۔ میرا سوال وہی ہے کہ یہ جزا و سزا اتنی ہی بری ہے تو بھائی خدا سے پہلے آیئے ہم مل کر اسے انسانی معاشرے سے ختم کردیتے ہیں۔ آئیے ہم تعلیم وتربیت سے امتحان ، کامیابی اور ناکامی کو نکال دیتے ہیں۔ ہم جیلیں توڑدیتے اور عدالتیں ختم کردیتے ہیں۔ ہم اوباشوں، قاتلوں اور ظالموں کو نیک ، امن پسند اور انسانیت کے خیراخواہ لوگوں کے برابر کھڑا کردیتے ہیں۔ جب یہ کرلیں تو پھر خدا پر بھی اعتراض لیں گے۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ سارے سوالات خدا سے ناواقفیت سے زیادہ انسانی نفسیات سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ یہ ذہن اس حقیقت کو نہیں جانتا کہ انسان کو مشقت اور امتحان کمزور نہیں طاقتور بناتا ہے۔ یہ اس کی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ یہ اس کے تزکیہ، تطہیر، اصلاح اور ارتقا کا لازمی حصہ ہے۔

یہ غیر حقیقت پسند ذہن یہ بھی نہیں سمجھتا کہ انسان کی بہترین صلاحتیں مصائب کے وقت جنم لیتی ہیں۔مصائب تو وقتی ہوتے ہیں، مگر یہ صلاحیتیں اور ان کے مثبت نتائج باقی رہ جاتے ہیں اور زندگی کی تعمیر، معاشرے کی ترقی اور فردکے ارتقا میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ ذہن اس حقیقت کو بھی نہیں سمجھتا کہ انسان کا وجود مادی ہی نہیں روحانی ہے جو نہ صرف مصائب کے دنوں میں طاقتور ترین ہوتا ہے۔ عارضی مصائب چلے جاتے ہیں مگر یہ روحانیت انسان کو غیر معمولی سکون عطا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ یہی مصائب انسان کے دل میں دیگر انسانوں کا درد پیدا کرتے ہیں ۔ اس دنیا میں درد نہ ہوتو یہ دنیا پتھر دل انسانوں کا جیتا جاگتا قبرستان بن جائے گی۔

یہ ذہن اس حقیقت کو بھی نہیں جانتا کہ سزا جزا انسانی زندگی کا طاقتور ترین محرک ہی نہیں انسانوں کو جانوروں سے جدا کردینے والی سب سے بڑی چیز ہے۔ یہ نہ ہوتو ہر نیک و بید برابر ہوگا۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے۔

ایک آخری حقیقت جو یہ ذہن نہیں سمجھ پاتا وہ یہ ہے کہ مصائب انسانی زندگی میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو آٹے میں نمک کی ہوتی ہے۔ یہ بات دو پہلوؤں سے بہت اہم ہے۔ اس پہلو سے بھی کہ یہ زندگی میں ذائقہ پیدا کرتے ہیں اور اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی میں مصائب بس اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے آٹے میں نم ہوتا ہے۔ ہماری زندگی میں نعمتیں ایک کلو آٹے جتنی ہوتی ہیں اور مصائب بس چٹکی بھر نمک جتنے ہی ہوتے ہیں۔ یہی وہ سب سے بڑی سچائی ہے جو کوئی ناشکرا انسان کبھی نہیں مانتا۔ ہم 99 فیصد نعمتوں میں جیتے ہیں اور صرف ایک فیصد عارضی مصائب میں۔ مگر ناشکری اور منفی سوچ کے لوگوں کو کبھی ایک کلوآٹا نظر نہیں آتا وہ چٹکی بھر نمک کو لے کر کہتے ہیں ہماری زندگی کو تلخاہٹ سے بھردیا گیا ہے۔ باخدااس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہوسکتا۔

ہاں البتہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کچھ لوگ زیادہ مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں۔ لیکن انسانیت کی مجموعی آبادی میں ان کا تناسب وہی ہوتا ہے جو آٹے میں نمک کا اور اس کا مقصد بھی باقی لوگوں کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کس طرح نعمتوں میں گزررہی ہے۔ اس حقیقت کو حضرت عیسیٰ نے یوں بیان کیا تھا کہ جب ان سے کہا گیا کہ اندھے کیوں پیدا کیے گئے ہیں تو آپ نے فرمایا تاکہ آنکھوں والے دیکھ سکیں۔ آہ مگر کیا کیجیے اکثر آنکھوں والے اندھے ہی ہوتے ہیں۔وہ کریم ترین اور رحیم ترین ہستی کے ان گنت احسان دیکھنے کے لیے بھی اندھے بنے رہتے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب ایسے سارے اندھوں کو ہمیشہ کے لیے اندھا کردیا جائے گا۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author