کیا ماں باپ خدا سے افضل ہوتے ہیں؟

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ماں باپ خدا سے افضل ہوتے ہیں؟ اسلام کہتا ہے کہ اگر ماں باپ کہیں تو آپ اپنے بیوی بچوں تک کو چھوڑ دو۔ تو کیا نتائج کی پرواہ کیے بغیر ہی والدین کی ہر بات مان لی جائے؟ بعض اوقات والدین کا ہر بات ماننے پر انسان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو کیا یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے نفع نقصان کو نظر انداز کر کے اپنے والدین کی فرمانبرداری کو ترجیح دے؟


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ والدین کی فرماں برداری کی حدود کیا ہیں۔

قرآن مجید میں والدین کے حوالے سے جو حکم دیا گیا ہے ،وہ حسن سلوک کا ہے۔ حسن سلوک کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس سے ان کو تکلیف یا اذیت پہنچے۔ احادیث میں فرمانبرداری حسن سلوک ہی کے ایک تقاضے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نافرمانی حسن سلوک کے تقاضے کے خلاف ہے۔ لیکن قرآن مجید کے لفظ حسن سلوک سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اطاعت کی حد کیا ہے۔ صرف وہ نافرمانی ممنوع ہے جو والدین کے ساتھ محبت ، ان کے احترام یا ان کی خدمت کی نفی کرتی ہو۔یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ جب کوئی شخص دین، اخلاق یا تدبیر کے پہلو سے والدین کا کہنا نہ مان سکتا ہو تو اسے ایسا کوئی اسلوب اختیار نہیں کرنا چاہیے جو حسن سلوک کے منافی ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author