کیا رسالت جاری ہے؟

سوال:

نبی اور رسول میں کیا فرق ہے۔ میرا ایک بہائی دوست کہتا ہہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے اور رسالت جاری ہے اور بہاء اللہ ایک رسول تھے۔


جواب:

نبی اور رسول میں جو فرق آپ نے بیان کیا ہے اس کی کوئی بنا قرآن وحدیث میں نظر نہیں آتی۔ یہ محض ایک قیاسی بات معلوم ہوتی ہے۔ دین میں وہی بات مانی جائے گی جس کی بنا کسی نص پر ہو۔ قرآن مجید کی بعض آیات میں نبی اور رسول بالکل مترادف کے طور پر استعمال ہوئے اور بعض سے ان کے فرق کا اشارہ نکلتا ہے۔ ہمارے استاد جناب غامدی صاحب، ان کے استاد جناب امین احسن اصلاحی صاحب نے جو فرق مرتب کیا ہے وہ یہ ہے:

نبی وہ ہے جس پر وحی آتی ہے اور وہ لوگوں کو اس وحی کی روشنی میں اللہ کی تعلیمات سے آگاہ کرتا ہے۔ رسول وہ ہے جو صرف تعلیمات ہی سے آگاہ نہیں کرتا بلکہ یہ وعید بھی سناتا ہے کہ اگر مجھ پر ایمان نہ لائے تو اس جرم کی پاداش میں تمھیں سزا بھی ملے گی۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ مکی سورتوں کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم انکار کے اس انجام سے باربار خبردار کیا۔ لہذا ہمارے ان اساتذہ کی تحقیق کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی بھی تھے اور اللہ کے رسول بھی تھے۔ نبی ہوئے بغیر رسول ہونے کا کوئی تصور نہیں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author