كيا شيطان ملائكہ كی طرح اللہ تعالی كا قرب ركھتا تھا؟

سوال:

ميں نے دنیا ٹی وی پروگرام ‘دين و دانش’ ديكھا۔ غامدی صاحب نے فرشتوں کے بارے میں بتایا كہ وہ بھی انسانوں کیطرح ارادہ اور اختیار رکھتے ہیں۔ میں نے تو سنا ہے کہ فرشتوں کی تخلیق کچھ اس طرح ہوئی ہے كہ وہ الله کی نا فرمانی کر ہی نہیں سکتے۔ اس پروگرام کے ميزبان نے غامدی صاحب سے سوال بھی کیا کہ اگر فرشتے اور انسان دونوں مخلوقات کے پاس ارادہ اور اختیار ہے تو انسان ہی غلطی کیوں کھا جاتا ہے؟ اس پر غامدی صاحب نے فرمایا کے فرشتوں کا معاملہ براہ راست الله کے ساتھ ہے جبکہ انسان کے ساتھ ایسا نہیں۔ اگر انسان بھی الله تعالی كے ساتھ بلاواسطہ رابطہ ميں ہوتا تو ممكن ہوتا كہ وہ بھی غلطی نہ کھاتا ہوتا۔ یہ بات بیان كرنے كا مقصد يہ ہے كہ ميرا سوال واضح ہو جائے۔ میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ايسا ہی ہے تو پھر شیطان سرکش کیوں ہوا جبكہ اس كا تعلق تو براہ راست الله كے ساتھ تھا ؟


جواب:

شیطان کے بارے میں پہلی بات تو یہ واضح رہنی چاہیے کہ وہ جنات میں سے ہے اور جنات کو وہ حاضری اور حضوری حاصل نہیں ہے جو ملائکہ کو حاصل ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنات کا معاملہ ملائکہ سے پڑتا رہتا ہے لیکن وہ ملائکہ کی طرح عالم لاہوت تک رسائی نہیں رکھتے۔ جنات کے بارے میں قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ وہ عالم لاہوت کی اخبار تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں مگر انھیں ملائکہ سنگ باری کرکے بھگا دیتے ہیں۔ چنانچہ شیطان کے بارے میں آپ کا یہ خیال درست نہیں کہ اسے بھی اسی طرح اللہ تعالی سے براہ راست معاملہ کرنے کا موقع حاصل تھا جیسے جنات کو حاصل ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author