کیا سنت پر عمل نہ کرنا گناہ ہے؟

سوال:

سنت کیا ہے؟ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی بات کہی وہ سنت ہے؟ جو کام بھی کیا وہ سنت ہے؟ کیا سنت دین کا حصہ ہے؟ سنت کا کیا معنی ہے؟ کیا سنت پر عمل نہ کرنا گناہ ہے؟

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

جو سوال آپ نے کیا ہے کم و بیش اسی جیسے ایک سوال کے جواب میں وہ ساری باتیں آگئی ہیں ہیں جو آپ نے دریافت کی ہیں۔ہم نے اس سوال کے جواب میں جو لکھا تھا وہ آپ کی سہولت کے لیے نیچے نقل کیے دیتے ہیں۔

سنت عربی زبان کا ايک عام لفظ ہے جس کا لفظی مطلب راستہ يا طريقہ ہے۔اس لفظ کے وجود ميں آنے کاپس منظريہ ہے کہ ميدانوں ،جنگلوں وغيرہ سے لوگ ايک دوسرے کے نقش قدم پر جب مسلسل گزرتے ہيں تو ايک پامال اور مستقل راستہ وجود ميں آجاتا ہے۔يہ لفظ اسی راستے کے ليے بولا جاتا ہے ۔دينی علم ميں جب يہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے طريقے، اعمال اور عادات پر کيا جاتا ہے۔ اہل علم سنت کی ايک تقسيم سنن ہدیٰ اور سنن زوائد کے اعتبار سے کرتے ہيں۔ ان کے نزديک سنن ہدیٰ وہ مشروع امور ہيں جن کو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے شارع کی حيثيت سے جاری فرمايا ہے ۔ خواہ ان کا حکم وجوب کے درجے ميں ہو استحباب کے درجے ميں۔جبکہ سنن زوائد وہ امور ہيں جنہيں حضور نے اپنے زمانے اور حالات کے پس منظر ميں اختيار فرمايا۔ ان ميں حضور کا لباس،آپ کی وضع قطع اور رہن سہن وغيره شامل ہيں۔ کچھ اہل علم احاديث يعنی اخباراحاد کو بھی سنت ميں شامل کرتے ہيں۔

استاذ گرامی جناب جاويد احمد غامدی صاحب نے سنت کی تعريف اس طرح کی ہے :

''سنت سے ہماری مراددین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدیدواصلاح کے بعداوراس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوںمیں دین کی حیثیت سے جاری فرمایاہے۔''،(ميزان:14)

يہ الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی چيز ہے جسے اوپر سنن ہدیٰ کے نام سے بيان کيا گيا ہے۔اس تعريف ميں صرف يہ بات اضافی طور پر بيان کی گئی ہے کہ تاريخی طور پر ان سنن کا آغاز سيدنا ابراہيم ؑ سے ہوا۔يہ سنن ايک دينی روايت کے طور پر حضور کی بعثت سے قبل ہی ان کی اولاد بنی اسرئیل اور بنی اسماعيل ميں موجود تھيں۔ حضور نے اللہ کے حکم سے ان ميں پيدا ہونے والی بدعات کو ختم کيا،بعض چيزوں ميں تبديلی و اضافہ کےا اور کچھ نئی چيزیں جاری کيں۔ تب سے اب تک يہ ہمارے درميان دين کے دوسرے ماخذ کے طور پر موجود ہيں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author