کیا ذہنی توازن کھو جانے والا مكلف ہے؟

سوال:

انسان جب تک اس دنیا میں ہے وہ ایک امتحان سے گزر رہا ہے اور آخرت میں اس کے ہر ایک عمل کی پوچھ گچھ ہوگی- لیکن کسی انسان کی اسکی دورانزندگی میں ذہنی توازن خراب ہو جائے تو کیا جس دن سے اس کا ذہنی توازن خراب ہوا ہے اس دن سے اس کا دنیوی حساب کتاب ختم؟


اور اگر ایسا ہے تو اس انسان کی اب اس دنیا میں کیا حیثیت ہوگی اور کیا انسان کی اخلاقی صفت کا تعلق اسکی روح کے ساتھ ہے کیوں کے اعمال کا حساب کتاب تو جانوروں سے نہیں لیا جائےگا کیوں کے ان میں اخلاقی صفت موجود نہیں؟


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ کیاحساب روح کا ہے۔ جب کوئی شخص ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے تو کیا اس کا حساب بند ہو جاتا ہے ۔ پھر اس کی دنیا میں کیا حیثیت ہے۔


انسان دین کا مخاطب بحیثیت انسان ہے۔ اس کا جسم یعنی اس کا ظاہر اور اس کی روح یعنی اس کا باطن دونوں مل کر اس کی شخصیت کی تکمیل کرتے ہیں۔جس طرح جسم کے کسی عضو کے بے کار ہو جانے سے انسان معذور ہو جاتا ہے اسی طرح باطنی وجود کے معطل ہونے سے بھی آدمی معذور ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالی نے شعور وارادہ کے مطابق اجر اور سزا دینی ہے اس لیے انسان کے معذور ہونے کے درجے کے مطابق اسے رعایت بھی ملے گی۔ ذہنی معذور ی کی بعض حالتیں ایسی ہیں جن میں آدمی دین کا مخاطب ہی نہیں رہتا ،چنانچہ اس کے کسی عمل پر اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔رہا یہ سوال کہ ایسے لوگوں کی زندگی کیا حیثیت ہے تو اس کے جواب میں میں یہ عرض کروں گا کہ انسانوں کی آزمایش انسانوں کے ذریعے سے بھی ہو رہی ہے اور قدرتی عوامل کے ذریعے سے بھی۔میرے ارد گرد موجود تمام افراد میرے لیے عبرت آموزی کا ذریعہ بھی ہیں اور میرے اخلاقی وجود کا امتحان بھی۔ معذور ہوں یا شکستہ حال افراد، میرے اعزہ واقربا ہوں یا میرے دشمن، قدرتی آفات ہوں یا خدا کی میری سعی میں مداخلت،میری اپنی کوتاہیوں کے پیدا کردہ حالات ہوں یا میرے ارد گرد موجود افراد، معاشرے اور ریاست کے پیدا کردہ حالات ، سب خدا کے اذن سے وجود پذیر ہوتا ہے اور میرے امتحان کا ذریعہ بنتا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author