لاعلاج مریض کی مصنوعی زندگی

سوال:

کسی مریض کے بارے میں اگر یہ اندازہ ہو جائے کہ اس کا علاج ناممکن ہے ، تو اس صورت میں ہماری شریعت ہمیں کیا رہنمائی دیتی ہے؟ کیا جب تک اس کی طبعی موت واقع نہ ہو، اسے مصنوعی آلات کے ذریعے سے زندہ رکھا جائے یا دواؤں کے ذریعے سے از خود موت کے حوالے کر دیا جائے؟


جواب:

مرض کا علاج اگر نہیں ہے تو ڈاکٹر پر مریض کو مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اگر مریض کے علاج کے لیے آپ کے پاس کوئی چیز موجود ہے تو ہر صورت میں علاج کیجیے ورنہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیجیے ۔ دین و اخلاق کی رو سے ڈاکٹر کے پاس نہ لاعلاج مریض کو خواہ مخواہ زندہ رکھنے کی تدبیر کی کوئی ذمہ داری ہے اور نہ خود سے اقدام کر کے اس کو مارنے کا حق ہے ۔ ہمارے ہاں دونوں معاملات میں بالعموم افراط و تفریط ہوتی ہے ۔ ایک طرف دواؤں کے ذریعے سے ازخود لوگوں کو مارا جاتا ہے، اس کا بھی کسی کو حق حاصل نہیں ہے، یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے اور دوسری طرف یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ کوئی علاج نہیں ہو سکتا ، مریض کو زندہ رکھنے کی کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں ۔ یہ بھی کوئی اخلاقی فریضہ نہیں ہے ۔دونوں کام اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیجیے ۔ علاج ہے تو آخری دم تک علاج کیجیے ۔ نہیں ہے تو بس ہاتھ اٹھا دیجیے، باقی معاملات اللہ تعالیٰ خود کر لیں گے ۔ اس معاملے میں لواحقین کو بھی اصرار نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ صبر کرنا چاہیے ۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author