لفظ توفی کا مفہوم

سوال:

میں نے آپ کی ویب سائٹ کا پہلی دفعہ آپ کی کتابوں، سوالات و جوابات کا مطالعہ کیا ہے۔ مجھے لفظ توفی کی تحقیق مکمل نہیں لگی۔ برائے مہربانی آپ میری رہنمائی فرمائیے۔ کیا یہ صرف روح قبض کرنے کے معنی میں آتا ہے یا اس کا کچھ اور مفہوم بھی ہو سکتا ہے۔ وضاحت فرمائیے۔


جواب:

توفی کا لغوی معنی پورا پورا لے لینا ہے مگر یہ فعل ان افعال میں سے ہے جو اصلا مجازی مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے اردو میں انتقال کا لفظ جب کسی انسان کے لیے بولا جائے گا تو اس سے مراد اس کا مر جانا ہے۔ لہذا بولنے اور لکھنے والے جب انسانوں کے لیے اس لفظ کو کسی دوسرے معنی میں استعمال کریں گے تو کلام میں ایسے واضح قرائن لاتےہیں جن سے اس کا مدعا واضح ہو۔ اسی طرح توفی کا فعل موت کے لیے ایسا معروف ہے کہ اسے لغوی معنی میں لینا بعید از قیاس ہے۔ اگر ہم کسی کلام میں یہ کہتے ہیں کہ یہ لغوی معنی میں آیا ہے تو اس کے دلائل لانا پڑیں گے۔

دلائل سے مراد یہ ہے کہ کلام اپنے اندر ایسے وہ اشارات رکھتا ہو جو لفظ کو اس کے مجازی کے بجائے لغوی معنی لینے پر مجبور کر دے ۔ مثلا عبداللہ صاحب لاہور سے کراچی انتقال کر گئے ہیں اور یہ جملہ بھی اصل میں سنجیدہ جملہ نہیں ہے ایسی بات شرارت کے طورکہی جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر حدیث میں حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی روایات نہ ہوتیں تو اس آیت کا وفات کے علاوہ کوئی مطلب نہ کیا جاتا۔

میرے نزدیک اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حضرت مسیح وفات کے بعد اٹھائے گئے تھے یا زندہ۔ اس لیے کہ دونوں صورتوں میں یہ ایک خارق عادت واقعہ ہے اور اس لیے بھی کہ حضرت مسیح نے اگر دوبارہ آنا ہے تو اللہ تعالی کے دونوں صورتیں بالکل یکساں ہیں۔ زندہ کو بھیجنا یا زندگی دے کر بھیجنا۔


answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author