لفظ لمم کا مصداق

سوال:

سورۂ نجم کی آیت 32 میں ارشاد ہے کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جو بڑ ے بڑ ے گنا ہوں سے بچتے ہیں لیکن کچھ چھوٹے چھوٹے گنا ہوں کے سوا‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ کون سے ہیں اور کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ ٹی وی اور کیبل دیکھنا اور کسی لڑ کی کو چھونا اور اس کے ساتھ رہنا چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جب تک کہ بڑا گناہ زنا نہ کیا جائے ۔اور اگر زنا کو چھوڑ تے ہوئے ان کا ارتکاب کر بھی لیا جائے تو ایسے شخص کے ساتھ آخرت میں ہلکا مواخذہ کیا جائے گا؟ نیز اس آیت میں ’لمم‘ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟


جواب:

آپ نے سورۂ نجم کی آیت 32کے حوالے سے چھوٹے گنا ہوں سے متعلق جوسوال کیا ہے ، وہ اس آیت کا مدعاپوری طرح نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے ۔ ہم ذیل میں مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیرتدبرقرآن کا ایک اقتباس نقل کیے دیتے ہیں جس میں اس آیت کی تفصیلی وضاحت بھی ہے اورآپ کے ان سوالات کاجواب بھی جوآپ کے ذہن میں پیدا ہوئے ہیں:

’’فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک وہ ہے جوبڑ ے گنا ہوں اورکھلی ہوئی بے حیائیوں سے بچنے والے ہیں ۔ان سے اگرکوئی برائی صادرہوتی ہے تواس کی نوعیت بس یہ ہوتی ہے کہ گویاچلتے چلتے کسی گندگی پرپاؤں پڑ گئے ۔وہ کبھی ٹھوکرکھا کرکسی گناہ میں مبتلاتوہوجاتے ہیں لیکن جس طرح کوئی صفائی پسندکسی گندگی پراپنابسترنہیں ڈال دیتابلکہ جلدسے جلداس سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح یہ بھی یہ نہیں کرتے کہ اس گناہ ہی کواپنا اوڑ ھنابچھونابنالیں ، جلدسے جلدتوبہ واصلاح کے ذریعہ سے اس سے پاک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔

’المام‘اور’لمم‘کے اصل معنی کسی جگہ ذرادیرکے لیے اترپڑ نے کے ہیں ۔مجاہداورابن عباس سے ’لمم‘کامفہوم یہ نقل ہوا ہے کہ آدمی کسی گناہ میں آلودہ توہوجائے لیکن پھراس سے کنارہ کش ہوجائے ۔مطلب یہ ہواکہ انسان سے یہ مطالبہ نہیں کہ وہ معصوم بن کرزندگی گزارے ۔جذبات اورخواہشوں سے مغلوب ہوکرگناہ کامرتکب ہوجانا اس سے بعید نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کایہ مطالبہ اس سے ضرورہے کہ اس کی حس ایمانی اتنی بیدار رہے کہ کوئی گناہ اس کی زندگی کا اس طرح احاطہ نہ کر لے کہ اس کے لیے اس سے پیچھاچھڑ اناہی ناممکن ہوجائے بلکہ جب بھی اس کانفس اس کوٹھوکرکھلائے وہ متنبہ ہوتے ہی توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لے ۔جولوگ اس طرح زندگی گزارتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے گنا ہوں کومعاف فرمادے گا۔اس کادامن مغفرت بہت وسیع ہے ۔

سورۂ نساء میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے :

’اللہ پرصرف ان کی توبہ کی قبولیت کی ذمہ داری ہے جوجذبات سے مغلوب ہوکربرائی توکربیٹھتے ہیں پھرجلدی توبہ کر لیتے ہیں ۔ایسے لوگوں کی توبہ اللہ قبول کر لیتا ہے ہے ۔اوراللہ علیم وحکیم ہے۔ اور ایسے لوگوں کی توبہ، توبہ نہیں ہے جوبرائی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پرآن کھڑ ی ہوئی تو وہ بولاکہ اب میں نے توبہ کی اوران لوگوں کی بھی توبہ نہیں ہے جوکفرہی کی حالت میں مرتے ہیں ۔یہی ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیارکر ر کھا ہے ‘۔ (النسا4:17-18)

کبٓرالاثْم والفواحش‘میں ’اثم‘سے مرادوہ گناہ ہیں جن کاتعلق غصبِ حقوق اورظلم وتعدی سے ہے اور’فاحشہ‘سے مراد کھلی ہوئی بے حیائیاں اوربدکاریاں ہیں ۔’کبائر‘سے بچنے کی جوہدایت فرمائی گئی ہے تواس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ صغائرپرکوئی گرفت نہیں ہے بلکہ اس میں حکمت، جیساکہ اس کے محل میں ہم وضاحت کر چکے ہیں ، یہ ہے کہ جو لوگ کبائرسے بچتے ہیں ان کی حس ایمانی اتنی قوی ہوجاتی ہے کہ وہ صغائرکے ارتکاب پر کبھی راضی نہیں ہوتے جوہزاروں کی امانت ادا کرتا ہے وہ کسی کے دھیلے پیسے میں خیانت کر کے خائن کہلانے پرکس طرح راضی ہو گا۔‘‘

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author