لفظِ اللہ کی تاریخ

سوال:

میرے ایک مسیحی دوست نے مجھ سے یہ کہا ہے کہ لفظ’اللہ‘اسلام سے پہلے نہیں بولا جاتا تھایعنی یہ لفظ اسلام کی آمد کے بعد استعمال ہونا شروع ہوا ہے۔ براہِ مہربانی مجھے اس بارے میں اپنی تحقیق سے آگاہ کریں اورلفظ’اللہ‘کی تاریخ کے بارے میں وضاحت کر دیں؟


جواب:

اسلام سے پہلے بھی عرب اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ’اللہ‘ہی استعمال کیا کرتے تھے ۔عرب میں چونکہ لکھنے کارواج نہیں تھا اس لیے انھوں نے اپنی تاریخی روایات کوشاعری کے ذریعے سے محفوظ کیا۔ دورِجاہلی کے بارے میں جومعلومات ہمیں ملتی ہیں ان کا اولین ماخذ یہی عربی شاعری ہے ۔اس زمانے کی جوشاعری ہم تک پہنچی ہے ، اس میں جاہلی شعرا نے اس لفظ کواپنے کلام میں بارہا استعمال کیا ہے ۔ہم یہاں دورجاہلی کے طبقۂ اول کے ممتاز شاعر زھیربن ابی سلمی کا ایک شعرنقل کیے دیتے ہیں جس میں اس نے لفظ’اللہ‘استعمال کیا ہے ۔زھیرکی وفات بعث نبوی سے ایک سال قبل ہوئی۔ یہ شعراس کے اس مشہور معلقے سے لیا گیا ہے جوعربی شاعری میں کلا سک کادرجہ رکھتا ہے :

فلاتکتمن الله ما في نفوسکمليخفی ومهما يکتم الله يعلم

یعنی جوکچھ تمھارے دلوں میں ہے اسے اللہ سے ہرگزنہ چھپاؤ، کیونکہ جوبھی اللہ سے چھپایاجائے گا، وہ(اسے )جان لے گا۔

یہ شعرواضح طورپرثابت کرتا ہے کہ اسلام سے پہلے بھی عرب میں یہ لفظ، اللہ تعالیٰ کے لیے عام استعمال ہوتا تھا۔اسی طرح کلامِ عرب میں اس کی اوربھی بہت سی مثالیں موجودہیں ۔

ایک اوراہم حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جب قرآن نے اللہ تعالیٰ کے لیے یہ لفظ استعمال کیاتوعربوں کواس پرکوئی حیرت یا اعتراض نہیں ہوا۔ قرآن کادعویٰ ہے کہ وہ عربی مبین میں نازل ہوا ہے یعنی اس کے تمام الفاظ بہت واضح اورمعروف ہیں۔ اگر لفظِ ’اللہ‘عربوں کے لیے اجنبی ہوتا تو کفارِمکہ، جوہروقت قرآن کوجھوٹ ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے تھے ، وہ اس لفظ کوموضوع بنا کرقرآن کے عربی مبین ہونے کے دعوے کو ضرور چیلنج کرتے ، تاریخ گواہ ہے کہ کفارنے کبھی ایساکوئی اعتراض نہیں کیا۔

اسی طرح احادیث نبوی، جوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی تاریخ کاسب سے مستند ماخذ ہیں ، ضروری تھاکہ انھی میں ایساکوئی ذکرمل جاتاجب صحابۂ کرام میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لفظ کے اجنبی ہونے پر کوئی سوال کیا ہو۔ ہمارے علم کی حدتک احادیث میں ایساکوئی واقعہ بیان نہیں ہوا۔

لفظ’اللہ‘کے اس تاریخی پس منظرکے بعداب اس لفظ کی ساخت کودیکھیے ۔ اہلِ عرب معبود (god) کے لیے لفظ’الہ‘استعمال کیا کرتے تھے ۔لیکن جب وہ کائنات کے خالق ورازق کانام لیتے تواسی لفظ کے شروع میں ’ال‘کا اضافہ کر کے اسے نکرہ(Common Noun)سے معرفہ(Popper Noun) بنادیتے ، جیسے انگریزی زبان میں ہم لفظ The لگا کرکسی نکرہ کومعرفہ بنادیتے ہیں ۔’ال‘کے اضافے سے اس لفظ کی اصل شکل’الالہ‘بن جاتی ہے ۔کثرت استعمال سے ، دوسرا الف حذف ہو گیا اور یہ لفظ ’الالہ‘ سے تبدیل ہوکر’اللہ‘بن گیا۔

اس سارے تجزیے سے یہ واضح ہے کہ لفظ’اللہ‘دورِ اسلام سے پہلے بھی عرب میں عام رائج تھا۔اس لیے آپ کے دوست کایہ اعتراض درست نہیں ہے کہ تاریخ اس کے ذکرسے خالی ہے ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author