لیلۃ القدر کی اہمیت

سوال:

میں آپ کی خدمت میں چند سوالات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ (۱) میں اپنے موبائل مسیجز میں سلام لکھ کر شروع کرتا ہوں۔ کیا صرف سلام لکھنا کافی ہے؟َ(۲) لیلۃ القدر سے کس طرح فائدہ حاصل کیا جائے؟ کیا اس رات میں ہر عبادت کا ثواب ہزار مہینوں کی عبادت کے برابر ہے؟ (۳) کیا میاں بیوی اپنی آرام گاہ کی کسی دروازے والی الماری میں قرآن اور حدیث کی کتابیں رکھ سکتے ہیں جب کہ اسی کمرے میں ٹی۔وی، سی۔ڈی، وغیرہ بھی رکھے ہوئے ہوں؟ اور پاؤں کا رخ بھی الماری کی طرف جا سکتا ہے۔برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

آپ کے سوالات کے جواب حسبِ ذیل ہیں:

١)اختصار کے پیشِ نظر آپ صرف سلام لکھ کر بھی اپنے خط کا آغاز کرسکتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں سورہ ہود، آیت 69 میں آپ اس کی مثال دیکھ سکتے ہیں۔

٢)قرآنِ کریم میں لیلۃ القدر کے متعلق یہ بات بے شک بیان ہوئی ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں قربتِ الہٰی کے جو مواقع میسر آتے اور جو برکات اور ثمرات مرتب ہوتے ہیں، وہ عام دنوں کے اعتبار سے ہزار مہینوں میں بھی مرتب نہیں ہوتے۔ جہاں تک عبادت کا سوال ہے تو یہ بات کہیں بیان نہیں ہوئی کہ اس رات میں جو عبادت کی جائیگی اس کا اجر و ثواب ہزار مہینوں کی عبادت کے برابر ہوگا۔ البتہ اےک رواےت میں یہ بات ملتی ہے کہ جس شخص نے اےمان و احتساب کے ساتھ اس شب میں قےام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردےے جاتے ہیں، (بخاری 1901، مسلم1781)۔

اس شب کی اس اہمیت کی بنا پر بندہ مؤمن کی یہ فطری خواہش ہونی چاہيے ہے کہ جس شب کے اندر اس قدر فیوض و برکات ہیں وہ اس رات میں غافل رہنے کے بجائے اپنے پرودگار کے حضور حاضر رہے، اس کی عبادت کرے، اس سے دعا مانگے، اس کا ذکر کرے اور اس کی رحمتوں میں سے حصہ پانے کی کوشش کرے۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے حصہ مل گیا اس کے لیے ہزار مہینے تو کیا، ہمیشہ باقی رہنے والے انعامات اس کا مقدر ٹھہریں گے۔

٣)جو صورتحال آپ نے لکھی ہے اس میں الماری کی طرف پاؤں کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ الماری میں اگر قرآنِ مجید اور دیگر دینی کتب رکھی ہوئی ہوں لیکن دروازہ بند ہونے کی بنا پر ایک رکاوٹ حائل ہو تو ایسی صورت میں الماری کی طرف پاؤں کرنے سے قرآنِ کریم کے ادب کے اعتبار سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، کیوں کہ دروازے کی بنا پر یہ کتابیں نظر نہیں آرہیں۔ جہاں تک کمرے میں ٹی وی وغیرہ کی موجودگی کا تعلق ہے تو اس کے ذریعے اگر کوئی ایسی چیز دیکھی یا سنی جارہی ہے جو قرآن کے احکامات کے خلاف ہے تو چاہے قرآنِ کریم کمرے میں موجود ہو یا نہ ہو، یہ بہرحال ایک برا کام ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author