لڑکی کا غیر لڑکے کے ساتھ بھاگ جانا

سوال:

میں آپ سے ایک مسئلے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے میری منگنی ہوئی تھی۔ جس میں میری اور میری منگیتر دونوں کی مرضی شامل تھی۔ لیکن بعد میں میری منگیتر کے کسی اور لڑکے سے تعلقات ظاہر ہوئے۔ اور پھر وہی لڑکا میری منگیتر کو لے کر بھاگ گیا۔ اور اب ان دونوں نے نکاح کر لیا ہے۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا ان کا یہ نکاح صحیح ہے؟ کیا مجھے اس لڑکے سے بدلہ لینا چاہیے؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔

آپ کے ساتھ بہت ہی افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کو دنیا و آخرت دونوں میں اس کے برے اثرات سے محفوظ رکھے۔

جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اسے بھول جائیں۔ وہ لڑکی آپ کی بیوی نہیں بنی آپ کے لیے اسی میں خیر تھی۔ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑیے اور اپنی زندگی اپنے دین و اخلاق پر بسر کیجیے کسی کے برا ہونے پر آپ برے کیوں بنیں۔

یہ دنیا آ‎زمایش ہے اگر ناگوار واقعات پیش نہ آئیں تو پتہ ہی نہ چلے کہ ہم اخلاق و کردار میں کتنے سچے ہیں۔ آپ صبر کریں گے تو اللہ اپنا فیصلہ نافذ کرے گا۔ اس کی قدرت وہاں وہاں سے ظاہر ہو گی جہاں سے ہم گمان بھی نہیں کر سکتے۔

آپ نیا رشتہ دیکھیں۔ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کریں۔ اس واقعے کو فراموش کردیں اسے ایک آزمایش سمجھیں اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو اسلامی اخلاق کے منافی ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author