لائف انشورنس

سوال:

کیا ہم لائف انشورنس کرا سکتے ہیں ؟


جواب:

انشورنس ایک عموی حادثے کے پیش آنے سے قبل ایک گروہ کے تمام افراد اکا متعین مالی تعاون ہے جو حادثہ کے شکار شخص کو دے دیا جاتا ہے ۔یعنی وہ ممکنہ حادثہ جو سب لوگوں کے ساتھ پیش آ سکتا ہے ، اس کے لیے تمام لوگ تعاون کرتے ہیں اور جس شخص کو پیش آتا ہے اس کی مدد کر دی جاتی ہے ۔اس اعتبار سے انشورنس اپنی ذات میں کوئی ممنوع شے نہیں ہے۔

تاہم بہت سے اہل علم کے نزدیک اس میں جوا، سود ، غر ر(بمعنی غیر متعین معاملہ) اور خدا پر عدم توکل کے بعض پہلو شامل ہیں۔ ہمارے نزدیک ان کی یہ رائے بعض وجوہات کی بنا پر ٹھیک نہیں ہے ۔البتہ یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ انشورنس کمپنیاں اپنے لوگوں کے پیسے کو سودی کاروبار اور ا سکیموں کے ذریعے بھی بڑ ھاتی ہیں اور اسی میں سے انھیں بھی رقم دیتی ہیں ۔ ظاہر ہے یہ چیز جائز نہیں ۔اس لیے اگر کوئی شخص انشورنس کرانا چاہے تو اسے پہلے یہ اطمینان کرنا چاہیے کہ کمپنی غیر سودی بنیاد پر کام کرتی ہے ۔ خاص کر معاملہ اگر لائف انشورنس کا ہو کیونکہ یہ ایک نوعیت کا انشورنس بھی ہوتا ہے اور ساتھ میں ایک طویل المدت سرمایہ کاری بھی ہوتی ہے جس میں ایک مدت گزرنے کے بعد اگر کوئی حادثہ نہ بھی ہو تب بھی لوگوں کو ان کی ادا کی ہوئی رقم سے زیادہ رقم واپس ملتی ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ سودہے سوائے اس کے کہ کمپنی غیر سودی بنیاد پر کاروبار کرے ۔اس حوالے سے ہمیں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ لائف نے غیر سودی انشورنس کی ا سکیم بھی نکالی ہے ۔ اس کے علاوہ ’تکافل ‘کے تصور کے تحت بھی بہت سی ا سکیمیں پیش کی جا رہی ہیں ۔ آپ ان لوگوں سے رابطہ کر کے سود کے عنصر کی معلومات حاصل کریں اور پھر انشورنس کرانے کا فیصلہ کریں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author