لونگ پہننے کی شرعی حیثیت

سوال:

شادی شدہ عورتوں کے ناک میں سوراخ کرا کر لونگ پہننے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ ہندووں میں پائی جانے والی رسوم میں سے ہے؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر صبح فرشتے انسانوں کی دنیا میں آکر یہ دیکھتے ہیں کہ کون سی لڑکی شادی شدہ ہے اور کون سی نہیں اور وہ شادی شدہ لڑکی کو ناک کے اس لونگ ہی سے پہچانتے ہیں۔ اس بات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟


جواب:

عورتوں کا اپنی زیب و زینت کے لیے مختلف طریقے اختیار کرنا خالصتاً معاشرتی مسئلہ ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مختلف تہذیبیں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہمیں دوسری تہذیب سے غیر شرعی رسوم لینے سے منع کرتا ہے اور جو رسوم غیر شرعی نہیں ہیں، ان کو اپنا لینے پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔


ناک میں سوراخ کرا کر لونگ پہننا مسلمانوں نے خواہ ہندووں ہی سے لیا ہو، لیکن اب یہ خود بعض علاقوں کے مسلمانوں میں رائج ہو گیا ہے۔ ہمارے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کوئی اسے اختیار کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے۔ البتہ فرشتوں کے شادی شدہ لڑکیوں کو لونگ کے ذریعے سے پہچاننے کے حوالے سے جو بات آپ نے لکھی ہے، وہ محض افسانہ ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author