مجبوراً رشوت لینا

سوال:

کیا کوئی غریب ملازم اپنے ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے رشوت لے سکتا ہے؟ اسلام کی رہنمائی کے مطابق اپنے نقطۂ نظر سے آگاہ کیجیے۔


جواب:

رشوت کی اجازت دینا قانون کو بیچنے کی اجازت دینا ہے۔ اسلام میں اس کی کوئی گنجایش نہیں۔ ہاں، اگر کسی مجبور شخص سے ایسی غلطی ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عذر کو قبول کر کے اسے معاف فرما دیں۔
اس رشوت لینے کو کسی جاں بلب بھوکے شخص کو حرام غذا کھانے کی اجازت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ حرام جانور نہ کھانا خدا کا حق ہے جسے وہ (اللہ) بھوکے شخص کے لیے چھوڑ دیتا ہے، جبکہ رشوت لینا لوگوں کے یا قوم کے حقوق بیچنا ہے۔ اس کی اجازت اس وقت تک نہیں ہو سکتی، جب تک وہ لوگ یا قوم اجازت نہ دے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ آمدنی بڑھانے کے دوسرے ذرائع اختیار کرنے کی کوشش کرے اور خدا سے برکت کی دعا کرے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author