مجبوری میں رشوت دينا

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کے جب ہمارے ملک میں بجلی کا شدید بحران ہے بجلی چوری کرنا یا پھر واپڈا والوں کو ہر ماہ بجلی چوری کرنے کے عوض ١٠٠ یا ٥٠٠ روپے دے دینا کس طرح کا عمل ہے کیوں کہ اگر بجلی بل کے حساب سے استعمال کی جائے تو میں بل جمع کرا ہی نہیں سکتا اور اوپر سے واپڈا والے جو لوگ بجلی کی چوری کر رہے ہیں ان کے بل بھی جو لوگ میٹر سے بجلی استعمال کرتے ہیں ان سے لیتے ہیں بتائیے کہ ان حالات میں کیا طریقہ ٹھیک رہے گا؟

مزید ایک سوال اور کہ اگر نوکری نہیں مل رہی ہو اور گھر کے حالات بھی بہت خراب ہوں تو کیا ان حالات میں رشوت دے کر کوئی ملازمت حاصل کی جا سکتی ہے؟


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ نے پوچھا ہے کہ ان حالات میں جبکہ بجلی بہت مہنگی ہے اور دوسروں کی چوری بھی ہمیں بھگتنی پڑتی ہے بجلی چوری کی جا سکتی ہے۔

آپ کا دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا رشوت دے کر نوکری حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ گھر کے حالات بہت خراب ہوں۔

عرض ہے کہ مہنگائی ہو یا ظلم کسی شخص کے لیے حرام جائز نہیں ہو سکتا۔ وہ مجبوری جس میں حرام جائز ہو جاتا ہے بجلی چوری اس میں نہیں آتی۔ اس کا حل صرف ایک ہی ہے کہ ہم بجلی اتنی ہی استعمال کریں جتنی ہم خرید سکتے ہیں۔ رشوت کے ضمن میں عرض ہے کہ قطعی طور پر حرام وہ رشوت ہے جس میں آپ غلط کام کراتے ہیں۔ اپنا جائز حق لینے کے لیے اگر رشوت دینی پڑ‎ے تو اس میں اللہ تعالی کی طرف سے صرف نظر کی توقع ہے جبکہ رشوت دینے والا مجبور ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author