ملکہ سبا کا تخت

سوال:

قرآنِ مجید کے مطابق ایک شخصیت نے ملکۂ سبا کا تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پلک جھپکتے میں حاضر کر دیا تھا۔ یہ کام کس علم کے تحت انجام دیا گیا؟


جواب:

موجودہ زمانے میں لوگوں کو اس پر تعجب کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ مادی علوم پر کچھ دسترس حاصل کرنے کے بعدہم ہزاروں میل دور ہونے والے عمل کو اسی وقت اپنے سامنے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کسی شخص کی تصویر، گفتگو اور حرکات وسکنات براہِ راست ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر کی ایجاد جو معجزے دکھا رہی ہے ، چند سال پہلے ان کا تصور ہی کیا جا سکتا تھا۔ موجودہ زمانے میں جس طرح مادی علوم حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہے ہیں ، قدیم زمانے میںاسی طرح کے کارنامے نفسی علوم کے ذریعے سے انجام دیے جاتے تھے ۔ چنانچہ جس طرح مادی علوم کا دین سے کوئی تعلق نہیں ، اسی طرح نفسی علوم کا بھی دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جو صاحب ملکۂ سبا کا تخت لے کر آئے ، ان کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے کہ: ان کے پاس قانونِ خداوندی کا ایک علم تھا۔ ہو سکتا ہے کہ دورِ جدید کے مادی علوم بھی کبھی اس مقام پر پہنچ جائیں کہ ہمارے سامنے پڑی ہوئی چیز چشم زدن میں امریکہ اور آسٹریلیا پہنچ جائے۔ ان صاحب کے کارنامے کی نوعیت ایسی ہی ہے جیسی ہمارے زمانے میں کسی موجد یا سائنس دان کے کسی کارنامے کی ہے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author