منگنی کی رسم

سوال:

ہمارے ملک میں شادی سے پہلے منگنی کی رسم کی جاتی ہے۔ اس میں شادی کرنے کا پختہ ارادہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کچھ اسباب کے باعث منگنی ٹوٹ بھی جاتی ہے۔ کیا اس رسم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویب حاصل ہے؟ اگر تصویب حاصل نہیں تو کیا یہ ایک بدعت ہے؟ ایسی صورت میں اس میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟


جواب:

کسی عمل کو بدعت قرار دینے کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ اس عمل کو کرنے والے اسے ایک دینی عمل قرار دیتے ہیں۔ منگنی سرتاسر ایک معاشرتی رسم ہے۔ اس کے خیر وشر کا فیصلہ بھی معاشرتی سطح ہی پر ہونا چاہیے۔ اسے دین میں کوئی نئی چیز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دین کے احکام کا تعلق نکاح سے ہے۔ وہاں اگر کوئی نئی چیز پیدا کی جائے تو اسے بدعت قرار دینے کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ باقی رہا منگنی ٹوٹنے کا عمل تو اس کا سدِ باب بعض لوگ نکاح سے کرتے ہیں۔ رشتہ اچھا ہو تو بے شک یہ فائدہ مند ہے ، لیکن رشتے میں اگر کوئی حقیقی خرابی نکل آئے تو یہی نکاح مشکلات میں اضافہ کر دیتا ہے۔


تمام معاشرتی رسوم کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں رکھتی ہیں۔ خامیوں کے سدِ باب کی صورتیں ضرور اختیار کی جا سکتی ہیں اور کرنی چاہییں ، لیکن ان کی بنا پر رسوم کو ختم کرنے کی سعی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ رسوم معاشرے کی مثبت اقدار کا مظہر ہوتی ہیں اور ان کے تسلسل کی ضامن ہوتی ہیں اور اس پہلو سے ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author