معاشی ذمہ دارياں اور والدين كے حقوق

سوال:

جناب میں ایک عجیب مشکل میں ہوں۔ ہم دو بھائی ہیں۔ میرے بڑے بھائی کے بچے نہیں ہیں۔ میری ایک سال پہلے شادی ہوئی ہے۔ اور مجھے اللہ تعالٰی نے ایک بیٹا دیا ہے۔ میری مشکل یہ ہے کہ آج کل تنخوا ه میں گزارا مشکل سے ہوتا ہے جبکہ میری اچھی خاصی تنخواہ ہے۔ مگر فیوچر میں جس طرح مہنگائی بڑھ رہی ہے تو میں باہر کسی ملک میں جا کر سیٹل ہونا چاہتا ہوں۔مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنے بہتر مستقبل کے لیے اپنی بیوی اور بچے کو ساتھ لے کر جاؤں یا اپنے والدین ، جن کو ابھی ابھی میرے بیٹے کا سکھ ملا ہے ، کا خیال رکھوں؟ اب نہ باہر جانے کو دِل کرتا ہے نہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس مہنگائی میں یہاں رہ کر میں اپنے والدین اور بیوی بچوں کی ذمہ داری ٹھیک طرح پوری کر سکوں گا۔ برائے مہربانی اس معاملے میں میری رہنمائی کیجیے۔


جواب:

آمدنی بڑھانے کے لیے باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ نہ اس سوچ ہی پر کوئی منفی بات کہی جانی چاہیے بلکہ محنت کے بل بوتے پر زیادہ کمانا بشرطیکہ وہ آپ کی دوسری ذمہ داریوں میں حارج نہ ہو پسندیدہ ہی قرار دیا جائے گا۔ اس معاملے ایک امتحان پیش آتا ہے اسے ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ آدمی اس دوڑ میں آخرت کو نظر انداز کر دیتا ہے یا بعض اوقات اس کی ترجیح قائم نہیں رکھ پاتا۔ آخرت رخی زندگی گزارتے ہوئے اپنی کمائی کو بہتر کرنا اور اس کے لیے ایک توازن قائم رکھتے ہو جد وجہد کرنا نہ صرف یہ کہ مناسب ہے بلکہ بالعموم ضروری قرار پاتا ہے۔ باقی رہا آپ کا یہ مسئلہ کہ آپ والدین کو چھوڑ کر جائیں یا نہ جائیں تو اس کا انحصار آپ کے ذاتی حالات پر ہے۔ اگر آپ کا یہاں رہنا والدین کے حوالے سے ناگزیر ہے تو آپ کو یہاں رہنے کو ترجیح دینی چاہیے ان شاء اللہ اللہ تعالی رزق کی فراخی کے اور امکانات پیدا فرما دے گا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author